Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 14

  1. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿14﴾

    1. اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
    2. اِلَىطرف، کو
    3. الَّذِيْنَجو لوگ
    4. تَوَلَّوْادوستی کرتے ہیں
    5. قَوْمًاان لوگوں سے
    6. غَضِبَ اللّٰهُاللہ نے غضب کیا
    7. عَلَيْهِمْ ۭان پر
    8. مَا هُمْنہ وہ
    9. مِّنْكُمْتم میں سے
    10. وَلَا مِنْهُمْ ۙاور نہ ان میں سے
    11. وَيَحْلِفُوْنَاور وہ قسم کھاجاتے ہیں
    12. عَلَيپر
    13. الْكَذِبِجھوٹ
    14. وَهُمْحالانکہ وہ
    15. يَعْلَمُوْنَجانتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
(کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اس قوم سے دوستی رکھنے ہیں جس پر اللہ کا غضب ہوا ! یہ لوگ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور یہ جھوٹی بات پر جانتے بوجھتے قسم کھاتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
6۔ آگے آیات 14۔ 22 کا مضمون بیچ میں جو ناسخ آیت آگئی تھی اس کی نوعیت جملہ معترضہ کی تھی۔ اس کے ختم ہوتے ہی مسئلہ کلام پھر منافقین کے ذکر سے مربوط ہوگیا اور یہ بتایا گیا کہ ان منافقین کا اصل رشتہ اسلام کے ساتھ نہیں بلکہ اسلام کے دشمن یہود کے ساتھ ہے۔ یہ ان سے دوستی رکھتے ہیں اور اپنی جھوٹی قسموں کے بل پر مسلمانوں کے اندر گھسے ہوئے ہیں۔ ان کی اصل بیماری دنیا کی محبت ہے جس کے سبب سے یہ شیطان کے ساتھی بنے ہوئے ہیں اور اللہ کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ غلبہ اللہ اور اس کے رسول کر حاصل ہوگا اور شیطان کی پارٹی شکست کھائے گی۔ ایمان باللہ کے ساتھ اعدائے دین کی دوستی جمع نہیں ہو سکتی۔ سچے اہل ایمان وہی ہیں جو اعدائے دین سے اپنے تمام تعلقات کاٹ لیں اگرچہ وہ ان کے کتنے ہی قریبی رشتہ دار اور عزیز ہوں۔ یہی لوگ اللہ کی پارٹی ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 7۔ الفاظ کی تحقیق آیات کی وضاحت (الم ترالی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیھم ما ھم منکم ولا منھم ویحلفون علی الکذب وھم یعلمون) (14) (منافقین اپنے مفاد کے سوا کسی کے ساتھی نہیں ہیں)۔ یہ ان منافقین کے حال پر اظہار تعجب ہے کہ ایک طرف تو یہ ان لوگوں کے دوست بنے ہوئے ہیں جو اللہ کے مغضوب ہیں دوسری طرف یہ تم کو (مسلمانوں کو) بھی قسمیں کھا کھا کے یقین دلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ فرمایا کہ (ما ھم منکم ولا منھم) نہ یہ لوگ تمہارے ساتھ ہیں اور نہ ان کے ساتھ ہیں۔ تمہارے ساتھ تو اس وجہ سے نہیں ہیں کہ اللہ اور رسول پر ایمان اور اللہ کے مغضوبوں کے ساتھ دوستی ہیں نسبت ضدین کی ہے۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہو سکتیں اور ان کے ساتھ یہ اس وجہ سے نہیں ہیں کہ ان کی دوستی اپنے مفاد کے ساتھ ہے۔ اگر ان پر کوئی سخت وقت آیا تو یہ ان کی خاطر کوئی چوٹ کھانے کو تیار نہیں ہوں گے بلکہ شیطان کی طرح اظہار برأت کر کے بھاگ کھڑے ہوں گے۔ (ویحلفون علی الکذب وھم یعلمون) یعنی وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے مفاد کے سوا وہ کسی کے ساتھ نہیں ہیں لیکن وہ جھوٹی قسمیں کھا کھا کے تم کو بھی راضی رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کو بھی (غضب اللہ علیھم) سے اشارہ یہود کی طرف ہے جن کو قرآن کی پہلی ہی سورة میں (مغضوب علیھم) کہا گیا ہے۔ اگرچہ ان منافقین کی دوستی مشرکین مکہ سے بھی تھی جس کا ذکر تفصیل سے اگلی سورتوں میں آئے گا لیکن یہاں خاص طور پر یہود کے ساتھ ان کی سوالات کی طرف اشارہ ہے۔ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ یہ منافقین زیادہ تر یہود ہی کے ساختہ پر داختہ اور انہی کے ایجنٹ کی حیثیت سے مسلمانوں کے اندر گھسے ہوئے تھے۔