تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 13
ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿13﴾
- ءَاَشْفَقْتُمْکیا تم ڈر گئے
- اَنْ تُقَدِّمُوْاکہ تم دے دو
- بَيْنَ يَدَيْپہلے
- نَجْوٰىكُمْاپنی سرگوشی
- صَدَقٰتٍ ۭصدقات
- فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْاسو جب تم نہ کرسکے
- وَتَابَ اللّٰهُاور درگزر فرمایا اللہ
- عَلَيْكُمْتم پر
- فَاَقِيْمُواتو قائم کرو تم
- الصَّلٰوةَنماز
- وَاٰتُوا الزَّكٰوةَاور ادا کرو زکوہ
- وَاَطِيْعُوا اللّٰهَاور تم کہا مانو اللہ کا
- وَرَسُوْلَهٗ ۭاور اس کے رسول
- وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢاور اللہ باخبر
- بِمَااس سے جو
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا تم اس بات سے اندیشہ ناک ہوئے کہ اپنی راز دارانہ باتوں سے پہلے صدقے پیش کرو۔ پس جب تم نے یہ نہیں کیا اور اللہ نے تم پر رحم فرمایا تو نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(اشفقتما ان تقدموا بین یدی تجولکم صداقت فاذلکم تفعلوا و تاب اللہ علیکم فاقیموالصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ واطیعوا اللہ ورسولہ واللہ خبیر بما تعملون) (13)۔
(ناسخ اور منسوخ دونوں یکجا ہیں)۔ یہ آیت کچھ عرصہ کے بعد سابق آیت کے حکم کو منسوخ کرنے کے لیے نازل ہوئی لیکن اس کو جگہ یہیں سورة کے بیچ میں اصل ابتدائی حکم کے ساتھ ہی دی گئی تاکہ منسوخ اور ناسخ دونوں آیتیں یکجا ہوجائیں۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں آیتوں کے درمیان اتنا وقفہ گزرا ہوگا کہ سابق حکم کا مقصد فی الجملہ پورا ہوگیا ہوگا یعنی منافقین کی سرگوشیوں کا وہ فتنہ دب گیا ہوگا جس کو دبانے کے لیے صدقہ کا مذکورہ بالا حکم نازل ہوا۔ لیکن بعض تفسیری روایات سے کچھ ایسا مترشح ہوتا ہے کہ ان دونوں آیتوں کے درمیان بس صبح و شام کا فاصلہ ہے۔ غالباً اس خیال کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں آیتیں قرآن میں ایک ہی جگہ ہیں لیکن ہر چیز اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتی کہ دونوں کے زمانہ نزول میں سرے سے کوئی فرق ہی نہ ہو یا محض برائے نام فرق ہو۔ قرآن میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ناسخ آیت عرصہ کے بعد نازل ہوئی لیکن ترتیب میں اس کو جگہ منسوخ حکم کے ساتھ ہی ملی۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورة مزمل میں موجود ہے۔
آنحضرت ﷺ سے تنہائی کی ملاقاتوں پر جو پابندی عائد کی گئی وہ جیسا کہ ہم نے وضاحت کی، ایک خاص فتنہ کے سدباب کے لیے، ایک خاص دور میں عائد کی گئی تھی۔ یہ پابندی اسی وقت اٹھائی گئی ہوگی جب یہ فتنہ یا تودب گیا ہوگا یا لوگوں کے اندر اس سے احتراز کا احساس پیدا ہوگیا ہوگا، یہ مقصد چند گھنٹوں میں پورا نہیں ہوسکتا۔ اس میں لازماً کچھ وقت صرف ہوا ہوگا اس وجہ سے ان دونوں آیتوں کے زمانہ نزول میں اتنا بعد لازماً ہوگا جتنا اس طرح کے کسی مقصد کے حاصل ہونے کے لیے ضروری ہے۔
(متفقتم ان تقدموا بین یدی نجولکم صدقت)۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ سے سرگوشی کرنے کا رجحان جو بہت بڑھ رہا تھا وہ اس حکم کے بعد دب گیا۔ منافقین تو اپنی بخالت کے سبب سے رک گئے ہوں گے اور مخلصین غربت کے علاوہ اس وجہ سے بھی محتاط ہوگئے ہوں گے کہ انہوں نے اندازہ کرلیا ہوگا کہ نبی ﷺ سے راز دارانہ کوئی بات کرنی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ بہر حال اس ہنگامی حکم سے جو اصل مقصود تھا جب ایک حد تک وہ حاصل ہوگیا تو یہ منسوخ کردیا گیا۔ (فاذلم تفعلوا وتاب اللہ علیکم) سے ایک تو یہ بات نکلتی ہے کہ لوگوں نے نہ تو نبی ﷺ سے راز دار نہ بات کرنے کی جرأت کی، نہ صدقہ دینے کی نوبت پیش آئی اور دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ لوگوں کے اندر فی الجملہ ندامت کا احساس ابھرا کہ اب تک ان کی جو روش رسول کے معاملے میں رہی وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ نہیں تھی اس وجہ سے وہ مستحق تادیب و تنبیہ ٹھہرے۔ (تاب اللہ علیکم) کے معنی ہیں اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ نظر کرم ان پر اس وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے اپنے احساس ندامت سے اپنے آپ کو اس کا سزا دار بنایا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ سخت دل ایسے بھی رہے ہوں جو اس تنبیہ کے بعد بھی متنبہ نہ ہوئے ہوں لیکن آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی لوگوں کے اندر ندامت کا احساس پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جب جماعت کے اندر کوئی اچھا احساس بحیثیت مجموعی ابھرتا ہے تو اس کو وہ قبولیت سے محروم نہیں فرماتا چناچہ یہ پابندی اٹھالی گئی۔
(فاقیموا الصلوٰۃ واتو الزکوۃ۔۔۔۔ الایۃ) یہ بات بطور بدرقہ ارشاد ہوئی ہے کہ یہ پابندی اگرچہ اٹھالی گئی لیکن احتیاط کے طور پر ضروری ہے کہ نماز و زکوٰۃ اور اللہ و رسول کی اطاعت کا خاص اہتمام رکھو تاکہ معاشرے میں اس طرح کی بحرانی کیفیت پھر نہ پیدا ہونے پائے اور شیطان کو نجویٰ کا فتنہ اٹھانے کا موقع پھر نہ مل سکے۔ (واللہ خیبر بما تعملون) اور اس حقیقت کو ہمیشہ مستحضر رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے)