تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 2
اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ﴿2﴾
- اَلَّذِيْنَجو لوگ
- يُظٰهِرُوْنَظہار کرتے ہیں
- مِنْكُمْتم میں سے
- مِّنْ نِّسَآئِهِمْاپنی بیویوں سے
- مَّا هُنَّوہ نہیں
- اُمَّهٰتِهِمْ ۭان کی مائیں
- اِنْنہیں
- اُمَّهٰتُهُمْان کی مائیں
- اِلَّامگر
- اڿصرف وہ عورتیں
- وَلَدْنَهُمْ ۭجنہوں نے جنا ہے انہیں
- وَاِنَّهُمْاور بیشک وہ
- لَيَقُوْلُوْنَالبتہ کہتے ہیں
- مُنْكَرًانامعقول
- مِّنَ الْقَوْلِبات سے
- وَزُوْرًا ۭاور جھوٹ
- وَاِنَّ اللّٰهَاور بیشک اللہ
- لَعَفُوٌّالبتہ معاف کرنیوالا
- غَفُوْرٌبخشنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تم میں سے جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہوں گی جنہوں نے ان کو جنا ہے، البتہ اس طرح کے لوگ ایک نہایت ناگوار اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور اللہ در گزر فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(الذین یظھرون منکم من نساء ھم ما ھن امھتھم ان امھتھم الا الی ولدنھم وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا وان اللہ لعفو غفور (2)۔
(ظہار اور اس کا شرعی حکم)۔ اس سلسلہ میں پہلی اصولی بات یہ فرمائی کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو اس طرح کی کوئی بات کہہ بیٹھتے ہیں اس سے ان کی بیویاں ان کی مائوں کے حکم میں نہیں داخل ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ ان کو جو حرمت حاصل ہوئی ہے وہ جننے کے تعلق سے حاصل ہوئی ہے جو ایک فطری اور راہدی حرمت ہے یہ چیز کسی دوسری عورت کو مجرد اس بنیاد پر نہیں حاصل ہوجائے گی کہ ایک شخص نے اس کو یا اس کے کسی عضو کو اپنی ماں یا اس کے کسی عضو سے تشبیہ دی۔ اس طرح کی بات کسی نے کہی ہے تو اس کی بات بھونڈی اور جھوٹی ہے جس پر وہ تنبیہ و تادیب کا مستحق ضرور ہے لیکن اس سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوجائے گی۔ (وان اللہ لعفو عفور) یعنی اس طرح کی منکر اور خلاف حقیقت بات اشتعال میں آ کر کوئی مسلمان اپنے منہ سے نکال بیٹھا پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تو اللہ تعالیٰ در گزر فرمانے والا اور معاف کرنے والا ہے چناچہ اس معاملے میں بھی چونکہ غلطی کے مرتکب کو اپنی غلط کا پورا پورا احساس ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس سے در گزر فرمایا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جاہلیت میں عربوں نے جس طرح منہ بولے بیٹوں کو بالکل صلبی بیٹوں کا درجہ دے رکھا تھا اسی طرح ظہار کے معاملے میں بھی ان کا رویہ نہایت متشددانہ تھا۔ کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح کی بات کہہ گزرتا جس کا حوالہ اوپر گزرا تو رواج عام اس کی بیوی کو فی الواقع اس کی ماں ہی کی طرح حرام بنا دیتا۔ مجال نہیں تھی کہ کوئی شخص ظہار کے بعد بیوی سے زن و شو کا تعلق قائم کرسکے۔ کوئی اس طرح کی جسارت کرتا تو لوگ اس کو بالکل اسی نگاہ سے دیکھتے گویا اس نے اپنی ماں کو نکاح میں رکھ چھوڑا ہے۔ اس وجہ سے اسلام نے اس طرح کی خلاف فطرت باتوں کی اصلاح کرتے ہوئے ہر جگہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فطرت کے قانون میں جس چیز کے لیے جو جگہ ہے اس کو اسی جگہ رکھو۔ اس میں رد و بدل کر کے دین فطرت کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کرو۔ سورة احزاب کی تفسیر میں یہ بحث تفصیلی سے گزر چکی ہے۔ یہاں بھی اس رسم بد کی اصلاح کرتے ہوئے معترضین کا منہ بند کرنے کے لیے پہلے ہی یہ بات واضح فرما دی کہ اس طرح کی ناروا باتوں سے فطرت کے قوانین نہیں بدل جاتے۔ بیوی محض کسی شخص کی ایک جھوٹ بات کی وجہ سے اس کی ماں نہیں بن جائے گی۔
(ایک نحوی سوال)۔ (ما ھن امھتھم) میں ایک سوال (امھتھم) کے اعراب سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس کو نصب کیوں ہے ؟ میرے نزدیک یہاں ما معنی میں لیس کے ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں موجود ہیں، مثلاً سورة حاقہ میں فرمایا ہے (فما منکم من احد عند حجزین) (47) (تو کوئی بھی تم میں سے اس کو بچانے والا نہیں بنے گا)۔