تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 3
وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿3﴾
- وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
- يُظٰهِرُوْنَظہار کرتے ہیں
- مِنْ نِّسَآئِهِمْاپنی بیویوں سے
- ثُمَّپھر
- يَعُوْدُوْنَوہ رجوع کرلیں
- لِمَااس سے جو
- قَالُوْاانہوں نے کہا (قول)
- فَتَحْرِيْرُتو آزاد کرنا لازم ہے
- رَقَبَةٍایک غلام
- مِّنْ قَبْلِاس سے قبل
- اَنْ يَّتَمَآسَّا ۭکہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں
- ذٰلِكُمْیہ
- تُوْعَظُوْنَتمہیں نصیحت کی جاتی ہے
- بِهٖ ۭاس سے، کی
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِمَااس سے جو
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
- خَبِيْرٌباخبر ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو لوگ ظہار کر بیٹھیں اپنی بیویوں سے پھر لوٹیں اسی چیز کی طرف جس کو حرام ٹھہرایا تو ایک گردن کو آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ یہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جارہی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(والذین یظھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالوا فتحریررقبۃ من قبل ان یتعاسا ذلکم تو عظون بہ واللہ بما تعملون خیبر (3)۔
(ظہار کا کفارہ)۔ یہ اس کا حل بتایا ہے کہ جو شخص اپنی سے ظہار کر بیٹھے پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹنا چاہے جس کو اس نے حرام ٹھہرایا تو اس کو اس سے پہلے کفارہ کے طور پر ایک غلام آزاد کرنا ہو گا۔ یعنی اس کی بیوی اس کے ظہار کے سبب سے اس کی ماں کی طرح حرام تو نہیں ہوجائے گی لیکن چونکہ نکاح و طلاق کے اثرات معاشرتی زندگی پر نہایت دور رس ہوتے ہیں اس وجہ سے اس معاملے میں جدوہزل دونوں ہی کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ چیز مقتضی ہے کہ ایسے شخص کو کچھ تنبیہ و تادیب کی جائے، تاکہ وہ بھی آئندہ احتیاط کی روش اختیار کرے اور دوسروں کو بھی اس سے سبق حاصل ہو، چناچہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرے۔ یہاں لفظ رتبۃ آیا ہے جس کے معنی گردن کے ہیں۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ غلام یا لونڈی کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ بعض فقہاء نے تو مسلم اور غیر مسلم کی کوئی قید بھی ضروری نہیں سمجھی ہے۔ دونوں میں سے جو بھی میسر ہو اس سے کفارہ ادا ہوجائے گا بس اتنی بات ہے کہ مسلم غلام میسر ہو تو اس کو ترجیح حاصل ہوگی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ غلام کی آزادی کو مقدم رکھا ہے۔ اگر غلام میسر نہ آئے تو دوسری متبادل شکلیں، جو آگے مذکور ہیں۔ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ اس سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے جس کا اظہار ہم نے سورة نور کی تفسیر میں کیا ہے کہ اسلام نے اپنے نظام میں غلام کی آزادی کی نہایت وسیع راہیں کھول دی تھیں یہاں تک کہ بہت سے چھوٹے بڑے گناہوں کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا قرار دے دیا تاکہ اس مہم کو ہر پہلو سے تقویت حاصل ہو۔
(منکر بات کا ذکر ابہام کے ساتھ)۔ (ثم یعودون لما تالوا) میں تھوڑا سا ابہام ہے۔ اس ابہام کی وجہ یہ ہے کہ جس بات کی طرف اشارہ ہے وہ بالبداہت بھی منکر ہے اور قرآن نے بھی اس کو منکر اور دذور قرار دیا ہے۔ ایک منکر بات کا ذکر صراحت کے ساتھ موزوں نہیں تھا اس وجہ سے قرآن نے مبہم الفاظ میں اس کی طرف اشارہ کردیا۔ مطلب یہی ہے کہ ظہار کے بعد وہ پھر وہی کام کرنا چاہیں جس کو انہوں نے اپنی ماں کی حرمت کی طرح حرام ٹھہرایا تو ان کے لیے ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم ہے۔ اس ابہام کی وضاحت اول (تو من قبل ان یتما سا) کے الفاظ سے بھی ہوجاتی ہے پھر بعینہٖ یہی اسلوب کلام اسی سورة کی آیت 8 میں بھی استعمال ہوا ہے۔ فرمایا ہے (ثم یعودون لما نھوا عنہ) (پھر وہ کرتے ہیں وہی کام جس سے وہ روکے گئے) اسی طرح یہاں بھی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پھر وہ کریں وہی کام جس سے رکنے کا انہوں نے عہد کیا یا جس کو اپنے اوپر حرام ٹھہرایا قالوا اور یقول وغیرہ کے الفاظ میں بتقاضائے بلاغت و ایجاز جو ابہام ہوا کرتا ہے اس کی ایک عمدہ مثال سورة مریم کی آیت 80 میں بھی ہے۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو اس کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔
(من قبل ان یتما سا) میں زور اس بات پر ہے کہ یہ کفارہ ہاتھ لگانے سے پہلے پہلے ادا کردیا جائے۔ آگے والی آیت میں بھی اس قید کا اعادہ ہے جس سے اس کا موکد ہونا ظاہر ہوتا ہے اس وجہ سے یہ جائز نہیں ہے کہ غلبہ نفس سے بےبس ہو کر کفارہ ادا کرنے سے پہلے تعلق قائم کرلیا جائے، اگر ایسا کیا گیا تو یہ حدود اللہ سے، جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے، تجاوز ہوگا۔
(تنبیہ)۔ (ذلکم توعظون بہ واللہ بما تعملون خبیر) یہ تنبیہ ہے کہ ان باتوں کی نصیحت تمہیں تمہارے رب کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ اگر تم نے در پردہ یا علانیہ ان کی خلاف ورزی کی تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ خبر رکھتا ہے تو اس کی گرفت سے نہ بچ سکو گے۔ ذلکم میں اشارہ ان تمام باتوں کی طرف ہے جو اوپر بیان ہوئیں۔ یعنی نہ تو ظہار کے معاملے میں جاہلیت کے رسوم پر اصرار کرو اور نہ کفارہ سے متعلق جو ہدایت کی جا رہی ہے اس سے فرار کے لیے چور دروازے اور فقیہی حیلے ایجاد کرو بلکہ ہر حکم کی تعمیل اس کی صحیح سپرٹ میں کرو۔ اسی میں دین و دنیا دونوں کی فلاح ہے۔