Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 113

  1. وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ﴿113﴾

    1. وَلِتَصْغٰٓىاور تاکہ مائل ہوجائیں
    2. اِلَيْهِاس کی طرف
    3. اَفْئِدَةُدل (جمع)
    4. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    5. لَا يُؤْمِنُوْنَایمان نہیں رکھتے
    6. بِالْاٰخِرَةِآخرت پر
    7. وَلِيَرْضَوْهُاور تاکہ وہ اس کو پسند کرلیں
    8. وَلِيَقْتَرِفُوْااور تاکہ وہ کرتے رہیں
    9. مَاجو
    10. هُمْوہ
    11. مُّقْتَرِفُوْنَبرے کام کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ایسا اس لیے ہے کہ اس کی طرف ان لوگوں کے دل جھکیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں اور تاکہ جو کمائی انہیں کرنی ہے وہ کرلیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس آیت کا عطف : اس مفہوم پر ہے جو اوپر والے جملے سے نکلتا ہے، یعنی ہم نے شیاطین جن و انس کو انبیاء و صالحین کی مخالفت اور بدعات و خرافات کے القا کی یہ مہلت جو اس دنیا میں دی ہے۔ یہ اس لیے دی ہے کہ اس سے ایک طرف حق پرستوں کی حق پرستی کا امتحان ہوتا ہے دوسری طرف باطل پرتوں کو ڈھیل ملتی ہے اور وہ ان شیاطین و اشرار کے ہاتھوں اپنا من بھاتا کھاجا پا کر اس کی طرف راغب ہوتے ہیں، اس کو پسند کرتے ہیں اور اس دنیا میں جو کمائی انہیں کرنی ہے وہ کرلیتے ہیں۔ یہ ڈھیل اس اختیار کا لازمی نتیجہ ہے جو انسان کو بخشا گیا ہے اس وجہ سے یہ سنت الٰہی کے تحت ہے۔ ان لوگوں کی صفت یہاں الذین لا یومنون بالاخرۃ بتائی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیاطین و اشرار کی یہ دعوت انہی لوگوں کو اپیل کرتی ہے جو آخرت کے اعتقاد سے خالی ہوتے ہیں ان کو مطلوب صرف یہ دنیا اور اس کا عیش ہوتا ہے اور اس کی سند ان شیاطین کے ہاتھوں ان کو مل جاتی ہے۔ اقتراف کے معنی کمائی کرنے کے آتے ہیں۔ قرآن میں یہ اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں بری کمائی کرنے کے معنی میں ہے۔