Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 35

Tafseer
  1. وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿35﴾

    1. وَاِنْاور اگر
    2. كَانَہے
    3. كَبُرَگراں
    4. عَلَيْكَآپ پر
    5. اِعْرَاضُهُمْان کا منہ پھیرنا
    6. فَاِنِتو اگر
    7. اسْتَطَعْتَتم سے ہوسکے
    8. اَنْکہ
    9. تَبْتَغِيَڈھونڈ لو
    10. نَفَقًاکوئی سرنگ
    11. فِي الْاَرْضِزمین میں
    12. اَوْیا
    13. سُلَّمًاکوئی سیڑھی
    14. فِي السَّمَآءِآسمان میں
    15. فَتَاْتِيَهُمْپھر لے آؤ ان کے پاس
    16. بِاٰيَةٍکوئی نشانی
    17. وَلَوْاور اگر
    18. شَآءَ اللّٰهُچاہتا اللہ
    19. لَجَمَعَهُمْتو انہیں جمع کردیتا
    20. عَلَي الْهُدٰيہدایت پر
    21. فَلَا تَكُوْنَنَّسو آپ نہ ہوں
    22. مِنَسے
    23. الْجٰهِلِيْنَبیخبر (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر ان کا اعراض تم پر گراں گزر رہا ہے تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی زینہ ڈھونڈ سکو کہ ان کے پاس کوئی نشانی لا دو تو کر دیکھو۔ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا تو تم جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے نہ بنو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاۗءِ فَتَاْتِيَهُمْ بِاٰيَةٍ ، اس جملہ میں جواب شرط محذوف ہے اور فصیح عربی میں جواب شرط کا حذف ایک معروف بات ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں بہت ہیں۔ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ۔ جہل کے لفظ پر ہم دوسرے مقام میں تفصیل کے ساتھ بھچ کر کے بتا چکے ہیں کہ عربی میں یہ لفظ علم اور حلم دونوں کے ضد کی حیثیت سے آتا ہے بلکہ اس کا غالب استعمال ‘ حلم ’ کے ضد کی حیثیت ہی سے ہے اسی وجہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں جذبات سے مغلوب ہوجانا۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اپنی طہارت فطرت کے سبب سے جذبات نفس اور خواہشات نفس سے تو کبھی مغلوب نہیں ہوتے لیکن جذبات خیر میں سے کسی جذبہ کا غلبہ ان پر بھی کبھی کبھی اتنا ہوجاتا ہے جو حد مطلوب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بجائے خود نہایت اعلی بات ہے لیکن حضرات انبیا چونکہ معیار اور کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پہلو میں بھی ان کو حد مطلوب سے آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیے کہ نبی کے اندر اس بات کی شدید آرزو ہوتی ہے کہ اس کی قوم ایمان لائے تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائے۔ یہ جذبہ نبی کی رافت و رحمت کی دلیل اور اس کی غیرت حق کی شہادت ہے لیکن یہ جذبہ بھی مطلوب اسی حد تک ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ کی اس سنت سے ہم آہنگ ہے جو لوگوں کے کفر و ایمان کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے اور جس کی طرف آیت 34 میں اشارہ گزرا۔ اگر اس حد سے اس کے آگے بڑھنے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اس سے روک دیتا ہے۔