تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 51
Tafseerوَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴿51﴾
- وَاَنْذِرْاور ڈراویں
- بِهِاس سے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- يَخَافُوْنَخوف رکھتے ہیں
- اَنْکہ
- يُّحْشَرُوْٓاکہ وہ جمع کیے جائیں گے
- اِلٰىطرف (سامنے)
- رَبِّهِمْاپنا رب
- لَيْسَنہیں
- لَهُمْانکے لیے
- مِّنْکوئی
- دُوْنِهٖاس کے سوا
- وَلِيٌّکوئی حمایتی
- وَّلَااور نہ
- شَفِيْعٌسفارش کرنیوالا
- لَّعَلَّهُمْتاکہ وہ
- يَتَّقُوْنَبچتے رہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم اسی کے ذریعہ سے خبردار کرو ان لوگوں کو جو ڈر رکھتے ہیں اس بات کا کہ وہ اپنے رب کے پاس اکٹھھے کیے جائیں گے اس حال میں کہ اس کے سامنے نہ ان کا کوئی حامی ہوگا نہ شفیع، تاکہ وہ تقوی اختیار کریں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
پیغمبر کو اہل خشیت کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت : اوپر کے پیرے میں یہ اعلان پیغمبر کی زبان سے کرا دیا گیا کہ نہ میں خزانوں کا مالک ہوں، نہ غیب جانتا ہوں نہ فرشتہ ہونے کا مدعی ہوں میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ اب یہ ارشاد ہوا کہ جو لوگ کسی نشانئ عزاب کے منتظر ہیں ان کو تو ان کے حال پر چھوڑو، البتہ جو عقل و فکر سے کام لینے والے ہیں اور جو اپنے دلوں کے اندر یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ ایک دن بہرحال خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور اس طرح حاضر ہونا ہے کہ ان کا کوئی حامی و شفیع ایسا نہ ہوگا جو ان کو خدا کی پکڑ سے بچا سکے، ان کو اس کتاب کے ذریعہ سے جو تم پر وحی کی جا رہی ہے بیدار اور خبردار کرو۔ جن لوگوں کے اندر یہ ڈر موجود ہوگا وہی اس کتاب سے فائدہ اٹھائیں گے اور وہی تقوی اختیار کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کریں گے۔ جن کے اندر آخرت کا کوئی اندیشہ ہی نہیں یا جو شرکاء و شفعا بنائے بیٹھے ہیں جن کی نسبت ان کا گمان ہے کہ خواہ کچھ ہو ہی وہ ان کو خدا سے چھڑا ہی لیں گے، وہ دنیا جہان کی نشانیاں دیکھ کر بھی اسی طرح ایمان سے محروم رہیں گے۔
اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوئیں۔ ایک یہ کہ انذار کے لیے فطری اور عقلی چیز یہ قرآن ہے نہ کہ عذاب کی نشانیاں۔ دوسری یہ کہ قرآن بھی نافع ان لوگوں کے لیے ہے جن کے اندر فطرت کی صلاحیتیں زندہ ہیں۔ جن فطری صلاحیتیں مردہ ہوچکی ہیں ان کو قرآن سے بھی نفع نہیں پہنچے گا۔ تیسری یہ کہ تقوی اور خدا ترسی کے لیے سب سے بڑا حجاب شفاعت باطل کا عقیدہ ہے۔