Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 61

Tafseer
  1. وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ﴿61﴾

    1. وَهُوَاور وہی
    2. الْقَاهِرُغالب
    3. فَوْقَپر
    4. عِبَادِهٖاپنے بندے
    5. وَيُرْسِلُاور بھیجتا ہے
    6. عَلَيْكُمْتم پر
    7. حَفَظَةًنگہبان
    8. حَتّٰٓيیہانتک کہ
    9. اِذَاجب
    10. جَآءَآپ پہنچے
    11. اَحَدَكُمُتم میں سے ایک۔ کسی
    12. الْمَوْتُموت
    13. تَوَفَّتْهُقبضہ میں لیتے ہیں اس کو
    14. رُسُلُنَا وَهُمْہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اور وہ
    15. لَا يُفَرِّطُوْنَنہیں کرتے کوتاہی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ تم پر اپنے نگران مقرر رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے تو ہمارے فرستادے ہی اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ اس کام میں کوتاہی نہیں کرتے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لفظ قہر کا مفہوم آیت 18 اور تفریط کا مفہوم آیت 38 کے تحت بپا ہوچکا ہے۔ حفظۃً ، حافظ کی جمع ہے جس کے معنی کسی شے کی نگرانی کے ذمہ دار کے ہیں۔ اس سے مراد یہاں وہ خدائی ہرہ دار ہیں جو ہر جان پر خدا کی طرف سے برابر مقرر رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہ خیال کرے کہ خدا اپنی مخلوق کے کسی فرد اور اپنے گلے کی کسی بھیڑ سے کبھی غافل ہوتا ہے، سب ہر وقت اسی کے کنٹرول میں ہیں۔ وہ برابر اپنے نگران فرشتوں کو ان پر مقرر رکھتا ہے جو ایک پل کے لیے بھی ان کی نگرانی سے غافل نہیں ہوتے۔ پھر جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو فرمایا“ ہمارے فرستادہ فرشتے ہی اس کی روح قبض کرتے ہیں اور مجال نہیں ہے کہ وہ اس کام میں کوئی کوتاہی کریں ”نہ ان کے قابو سے کوئی باہر نکل سکتا، نہ کسی کو وہ فراموش کرسکتے، نہ کسی کی موت ایک لمحہ کے لیے بھی آگے پیچھے ہوسکتی۔