تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 72
وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿72﴾
- وَاَنْاور یہ کہ
- اَقِيْمُواقائم کرو
- الصَّلٰوةَنماز
- وَاتَّقُوْهُاور اس سے ڈرو
- وَهُوَاور وہی
- الَّذِيْٓوہ جس کی
- اِلَيْهِاس کی طرف
- تُحْشَرُوْنَتم اکٹھے کیے جاؤگے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی ہے جس کے حضور تم سب اکٹھے کیے جاؤ گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاَنْ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّقُوْهُ ۭ وَهُوَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ، یہ وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کے تحت اور اسی کی عملی تصویر ہے لیکن اسلوب غائب سے بدل کر حاضر کر کردیا گیا ہے جس سے اس کے اندر براہ راست خطاب کا زور پیدا ہوگیا ہے۔ نماز کا ذکر یہاں اس اسلام کے اولین عملی مظہر کی حیثیت سے ہوا ہے جس کا ذکر وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ میں ہے۔ تقوی یہاں ان تمام حدود کی پابندی کے مفہوم میں ہے جن کی پابندی کا خدا نے حکم دیا ہے۔ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ میں آخرت اور توحید دونوں چیزیں جمع کردی گئی ہیں اور یہ اوپر والے احکام کی دلیل ہے کہ نماز کا قیام اور حدود الٰہی کا احترام اس لیے لازم ہے کہ ایک دن خدا کے آگے حاضر ہوتا ہے اور صرف اسی کے آگے حاضر ہونا ہے، اس دن کوئی اور مرجع و مولی نہیں ہوگا۔