Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 1

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ﴿1﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاایمان والو
    3. لَا تَتَّخِذُوْاتم نہ بناؤ
    4. عَدُوِّيْمیرا دشمن
    5. وَعَدُوَّكُمْاور اپنے دشمن
    6. اَوْلِيَآءَدوست
    7. تُلْقُوْنَتم پیغام بھیجتے ہو
    8. اِلَيْهِمْان کی طرف
    9. بِالْمَوَدَّةِدوستی سے، کا
    10. وَقَدْ كَفَرُوْااور وہ منکر ہوچکے ہیں
    11. بِمَااس کے جو
    12. جَآءَكُمْتمہارے پاس آیا
    13. مِّنَ الْحَقِّ ۚحق سے
    14. يُخْرِجُوْنَوہ نکالتے (جلاوطن کرتے) ہیں
    15. الرَّسُوْلَرسول
    16. وَاِيَّاكُمْاور تمہیں بھی
    17. اَنْ تُؤْمِنُوْاکہ تم ایمان لاتے ہو
    18. بِاللّٰهِاللہ پر
    19. رَبِّكُمْ ۭتمہارا رب
    20. اِنْاگر
    21. كُنْتُمْ خَرَجْتُمْتم نکلتے ہو
    22. جِهَادًاجہاد کیلئے
    23. فِيْ سَبِيْلِيْمیرے راستے میں
    24. وَابْتِغَآءَاور چاہنے کے لئے
    25. مَرْضَاتِيْ ڰمیری رضا
    26. تُسِرُّوْنَتم چھپا کر (بھیجتے ہو)
    27. اِلَيْهِمْان کی طرف
    28. بِالْمَوَدَّةِ ڰدوستی (کا پیغام)
    29. وَاَنَااور میں
    30. اَعْلَمُخوب جانتا ہوں
    31. بِمَآوہ جو
    32. اَخْفَيْتُمْتم چھپاتے ہو
    33. وَمَآاور جو
    34. اَعْلَنْتُمْ ۭتم ظاہر کرتے ہو
    35. وَمَنْ يَّفْعَلْهُاور جو یہ کرے گا
    36. مِنْكُمْتم میں سے
    37. فَقَدْ ضَلَّتو تحقیق وہ بھٹک گیا
    38. سَوَآءَسیدھا
    39. السَّبِيْلِراستہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، تم ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اس حق کا انکار کیا جو تمہارے پاس آیا، وہ رسول کو اور تم کو اس بنا پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اللہ، اپنے خداوند پر، ایمان لائے !۔۔۔۔ اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضا جوئی کو نکلتے ہو، ان سے راز دارانہ نامہ و پیام کرتے ہوئے، درآں حالیکہ میں جانتا ہوں جو تم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو، اور جو تم میں سے ایسا کرتے ہیں وہ راہ راست سے بھٹک گئے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یایھا الذین امنوا لا تتخذو اعدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ وقد کفروا بما جاء کم من الحق یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا باللہ ربکم ان کنتم خرجتم جھادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی تسرون الیھم بالمودۃ وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتم ومن یفعلۃ منکم فقد ضل سواء السبیل) (1) (مصلحت پرست مسلمانوں کو تنبیہ)۔ خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی مسلمانوں کی طرف ہے جو ہجرت کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد مشرکین مکہ کے ساتھ اپنے سابق خاندانی اور عزیز انہ تعلقات کا لحاظ باقی رکھے ہوئے تھے۔ جب تک مشرکین سے عام جنگ کا حکم نہیں ہوا اس وقت تک تو ان کی اس کمزوری پر پردہ پڑا رہا لیکن جب ان کے عام تعاقب کا حکم ہوگیا تو ان کی یہ کمزوری ظاہر ہونے لگی۔ یہ لوگ اپنے خاندان اور قبیلہ والوں کے خلاف تلوار اٹھانے سے بھی جھجکتے تھے اور قریش کے لیڈروں کو خوش رکھنے کی بھی خواہش مند تھے کہ وہ ان کے عزیزوں کے درپے آزار نہ ہوجائیں۔ اگرچہ ان کی یہ روش نفاق سے زیادہ مصلحت پرستی پر مبنی تھی۔ ان کا گمان تھا کہ اگر انہوں نے اپنے ان مشرک عزیزوں سے اچھے تعلقات باقی رکھے تو ان کے رویے سے متاثر ہو کر وہ ایک دن سچے مسلمان بن جائیں گے۔ لیکن قرآن نے اس مصلحت کو ایمان کے منافی قرار دیا اور ان پر واضح فرمایا کہ جس ایمان کے تم مدعی ہو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں سے رشتہ موالات نہ رکھو جو اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ لفظ عدو واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فعول کے وزن پر ہے اور عربی میں یہ وزن دونوں کے لیے یکساں ہے بلکہ اس میں مذکر و مونث کا بھی امتیاز نہیں ہے۔ (تلقون الیھم بالمودۃ وقد کفروا بما جاء کم من الحق یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا باللہ و بکم) یہ اوپر والی بات ہی کی وضاحت ہے کہ تم تو ان سے موالات و محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ ان کی یہ دشمنی اس سے واضح ہے کہ جو دین تمہارے پاس آیا اس کا بھی انہوں نے انکار کیا اور رسول کو اور تم کو اس جرم میں جلا وطن کرنے کے درپے ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے، ایمان کیوں لائے۔ (تلقون الیھم بالمودہ) اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح (ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ) (البقرۃ : ہ، 195) اس طرح کے کام نامہ و پیام اور وسائل و وسائط سے انجام پاتے ہیں اس وجہ سے تعبیر مطلب کے لیے یہ اسلوب نہایت موزوں ہے۔ ہم نے اسلوب کی معنویت ملحوظ رکھنے کے لیے ترجمہ محبت کی پینگیں بڑھانا کیا ہے۔ (یخرجون الرسول وایا کم) میں حال کا صیغہ صورت حال کو نگاہوں کے سامنے کردینے کے لیے ہے تاکہ ان لوگوں کو غیرت دلائی جائے جو ایسے بےدرد لوگوں سے سوالات کے خواہش مند تھے جنہوں نے رسول اور ان کے ساتھیوں کو ان کے وطن سے جلا وطن کیا، فرمایا کہ اگر اس کے باوجود تم ان سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہو تو اپنے ایمان و اسلام کا جائزہ لو اس لیے کہ ان کا سارا غصہ تو اسی بات پر ہے کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے، ایمان لائے ! ربکم یہاں دلیل کے محل میں ہے کہ اللہ ہی جب رب ہے تو وہی ایمان کا حق دار ہوا۔ اگر تم اس پر ایمان لائے تو تم نے اصل حق دار کا حق پہچانا لیکن تمہاری یہی حق شناسی ان کے غضب کا سبب بن گئی ہے۔ (ان تومنوا) کے اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ ’ ان ‘ سے پہلے بعض اوقات مضاف محذوف ہوجایا کرتا ہے۔ اگر اس کو کھول دیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ اس الزام یا اس گناہ پر تمہیں نکال رہے ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا پروردگار ہے، ایمان کیوں لائے ؟ گویا تمہاری سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑی حق شناسی ان کے نزدیک تمہارا سب سے بڑا گناہ بن گئی ہے۔ (ان کنتم خرجتم جھاد فی سبیلی وابتخاء مرضاتی تسرون الیھم بالمودۃ وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتم ومن یفعلہ منکم فقد ضل سواء السبیل)۔ (ایک اسلوب کی وضاحت)۔ اس ٹکڑے کی نحوی تالیف مفسرین پر اچھی طرح واضح ہوئی اس وجہ سے وہ اس کا مطلب واضح نہ کرسکے۔ پہلے اس کی تالیف نحوی سمجھ لیجئے، پھر ہم اس کا مطلب واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ مفسرین نے عام طور پر یہاں شرط کا جواب مخدوف مانا ہے اور قرینہ سے اس کو معین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میرے نزدیک یہاں (ان کنتم) اور (من یفعلہ) دونوں شرطوں کا جواب ایک ہی یعنی (فقد ضل سواء السبیل) ہے۔ تسرون ضمیر خطاب سے حاصل واقع ہوا ہے اور (انا اعلم بما اخفیم وما اعلنتم) جملہ معترضہ کے محل میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم میری راہ میں جہاد اور رضا طلبی کے لیے اس حال میں نکلے کہ تم اپنے دلوں میں اللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ سوالات کی خواہش چھپائے ہوئے ہو۔ درآنحالیکہ میں تمہارے باطن اور ظاہر دونوں کو جانتا ہوں تو یاد رکھو کہ جو تم میں سے ایسا کریں گے وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔ (اللہ کی رضا طلبی اور اس کے دشمنوں سے سوالات ایک جگہ نہیں جمع ہو سکتیں)۔ سیدھی راہ سے بھٹک جانے کی وجہ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کی رضا طلبی اور اللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ دوستی، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ یہ دونوں بیک وقت کسی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اگر اللہ ظاہر و باطن دونوں سے آگاہ نہ ہوتا تب تو اس کو دھوکہ دیا جاسکتا تھا لیکن جب وہ ہر ایک کے ظاہر و باطن سے اچھی طرح آگاہ ہے تو اس کو کس طرح دھوکا دیا جاسکتا ہے ! جو لوگ اس طرح کی وہ متضاد خواہیں اپنے دلوں میں رکھ کے نکل رہے ہیں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ شیطان کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ع ایں رہ کہ تو میروی بہ ترکستان است (شان نزولی سے متعلق ایک نکتہ)۔ اس آیت کے تحت مفسرین نے حضرت حاطب بن بلتعہ ؓ کا ایک واقعہ بطور شان نزول، نقل کیا ہے۔ شان نزول سے متعلق ہم مقدر کتاب میں استاذ امام ؒ کی رائے نقل کرچکے ہیں کہ سلف جب کسی آیت کے تعلق سے کوئی واقعہ بطور شان نزول نقل کرتے ہیں تو اس کا مطلب لازماً یہی نہیں ہوا کرتا کہ بعینہٖ وہی واقعہ آیت کے نزول کا سبب ہے بلکہ اس سے ان کا مقصود صرف یہ رہنمائی دینا ہوتا ہے کہ اس آیت میں اس طرح کے واقعات کے لیے بھی حکم موجود ہے۔ اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک خاص قسم کی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ جس کمزوری کی طرف آیت میں اشارہ سے بعض لوگوں کے اندر اس کا پایا جانا کچھ عجیب بھی نہیں ہے بلکہ یہ عام بشری کمزوری کا نتیجہ یا جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مصلحت خیر پر بھی مبنی ہو سکتی ہے اور یہاں یہی پہلو، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوگا، قرین عقل ہے۔ لیکن مصالح کا اصل جاننے والا خدائے علیم و حکیم ہی ہے۔ بسا اوقات آدمی نیک نیت سے ایک رائے قائم کرتا ہے لیکن اس میں اس کے نفس کی کوئی کمزوری بھی چھپی ہو سکتی ہے جس تک اس کی نظر نہیں پہنچتی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اسی طرح کی کمزوریوں پر تنبیہ فرمایا ہے تاکہ اس امت کے ہر اول دستہ کا ہر عمل بعد والوں کے لیے نمونہ ہو۔