تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 2
اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ﴿2﴾
- اِنْاگر
- يَّثْقَفُوْكُمْوہ تمہیں پائیں
- يَكُوْنُوْاوہ ہوجائیں
- لَكُمْتمہارے
- اَعْدَآءًدشمن
- وَّيَبْسُطُوْٓااور وہ کھولیں
- اِلَيْكُمْتم پر
- اَيْدِيَهُمْاپنے ہاتھ
- وَاَلْسِنَتَهُمْاور اپنی زبانیں
- بِالسُّوْٓءِبُرائی کے ساتھ
- وَوَدُّوْااور وہ چاہتے ہیں
- لَوْ تَكْفُرُوْنَکاش تم کافر ہوجاؤ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر وہ تم کو پا جائیں تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اور تم پر دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی اور چاہیں گے کہ تم کافر ہو جائو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ان یتقفوکم یکونوا لکم اعداء ویبسطوا الیکم ایدیھم والسنتھم بالسوئو و دوا لو تکفرون) (2)۔
(کفا کے غباد کا حال)۔ یعنی تم تو ان سے دوستی کے خواہشمند ہو لیکن ان کے دلوں میں تمہارے خلاف ایسا عناد بھرا ہوا ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں قابو پا گئے تو نہ دست درازی سے باز رہیں گے نہ زبان درازی سے بلکہ ان کی پوری کوشش یہ ہوگی کہ تمہیں مرتد کر کے چھوڑیں۔ یہی بات سورة توبہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔ (وَاِنْ یَّظْہَرُوْا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَاذِمَّۃًط) (التوبۃ : 9، 8) (اگر وہ تم پر قابو پا گئے تو پھر تمہارے معاملہ میں نہ وہ قرابت کا پاس کریں گے نہ کسی عہد کا) مطلب یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ان کی دشمنی من حییث الجماعت ہے اور اس سے وہ اتنے سخت ہیں کہ کسی رشتہ و قرابت یا کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے نہیں ہیں تو ان سے کسی نیکی کی توقع نہ رکھو بلکہ تمہارے لیے بھی صحیح رویہ یہی ہے کہ ان سے سوالات کی ہر خواہش سے دست بردار ہو جائو۔