تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 7
عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿7﴾
- عَسَى اللّٰهُقریب ہے کہ اللہ
- اَنْ يَّجْعَلَکہ وہ کردے
- بَيْنَكُمْتمہارے درمیان
- وَبَيْنَاور درمیان
- الَّذِيْنَان لوگوں کے
- عَادَيْتُمْتم عداوت رکھتے ہو
- مِّنْهُمْان سے
- مَّوَدَّةً ۭدوستی
- وَاللّٰهُاور اللہ
- قَدِيْرٌ ۭقدرت رکھنے والا
- وَاللّٰهُ غَفُوْرٌاور اللہ بخشنے والا
- رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
توقع ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم نے دشمنی کی، دوستی پیدا کر دے۔ اللہ قدرت والا اور غفور رحیم ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(عسی اللہ ان یجعل بینکم و بین الذین عایتم منھم مودۃ واللہ قدیر واللہ غفور رحیم) (7)۔
(ایک عظیم بشارت)۔ یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے کہ آج اگر تم جی کڑا کر کے اپنے ان اقرباء سے اپنی دشمنی کا اعلان کردو گے تو یہ نہ خیال کرو کہ یہ دشمنی ہمیشہ دشمنی ہی رہے گی بلکہ امکان اس کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دشمنی کو محبت سے بدل دے اور جن سے آج تمہیں عداوت کرنی پڑ رہی ہے وہ ایمان و اسلام کی توفیق سے بہرہ مند ہو کر تم سے گلے ملیں۔ (واللہ قدیر واللہ غفور رحیم) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو جانی دشمنوں کو جگری دوست بنا دے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ وہ لوگوں کو عذاب میں ڈالنے کے بہانے نہیں ڈھونڈتا بلکہ مغفرت و رحمت سے نوازنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ اس کے کٹر سے کٹر دشمنوں سے متعلق بھی یہ گمان نہیں رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیشہ دشمن ہی رہیں گے، کیا عجب اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے لیے بھی توفیق خیر کی راہ کھول دے۔ یہاں (غفور ورحیم) کی صفت کے حوالے میں بشارت کا یہ پہلو بھی ہے کہ اب تک جو لوگ اللہ کے ان دشمنوں سے خفیہ روابط رکھتے ہیں اس تنبیہ کے بعد اگر وہ چوکنے ہوگئے اور اپنی روش کی انہوں نے اصلاح کرلی تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، وہ ان کی ان کمزوریوں کو معاف کردے گا۔
(ہجرت کا ایک نفسیاتی پہلو)۔ اس آیت میں اہل مکہ کے قبول ایمان کی جو بشارت ہے اس کی ایک خاص نفسیاتی وجہ بھی ہے جو یہاں ملحوظ رکھنے کی ہے۔ وہ یہ کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے بہت سے بھائی بہن، عزیز قریب محض دین کی خاطر اپنے گھر در، اپنے اہل و عیال اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر ان سے جدا ہو رہے ہیں درآنحالیکہ یہ لوگ ہر اعتبار سے ان کے اندر کے بہترین اشخاص تھے تو وہ سونچنے لگ گئے کہ اس دعوت کا مقابلہ ظلم وتعدی سے کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ ہمیں خود اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ شاید اسی کتاب میں یا اپنے کسی اور مضمون میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ جیسے عظیم شخص کو جس چیز نے سب سے پہلے اسلام کی طرف مائل کیا وہ کچھ مظلوم مردوں اور عورتوں کی حبشہ کی طرف ہجرت ہے۔ ہجرت کا یہ اثر ہر حساس مرد اور عورت پر پڑنا لازمی تھا چناچہ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد قبول اسلام کی رفتار بہت تیز ہوگئی۔ اس عمل کو اپنی فطری رفتار پر قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ مہاجرین میں سے کوئی گروہ اہل مکہ کے آگے اپنی کمزوری کا اظہار نہ کرتا۔ اگر ان کی طرف سے کسی کمزوری کا اظہارہوتا تو اہل مکہ یہ خیال کرتے کہ مسلمان ہجرت تو کر گئے لیکن اب وہ اپنے اقدام پر پچھتا رہے ہیں اور ہم سے دوستانہ و نیاز مندانہ روابطہ قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ چیز ان کے اندر بھی اسلام کے احساس کو دبا دیتی اور مکہ میں گھرے ہوئے دوسرے مظلوم مسلمانوں کے حوصلے بھی پست کردیتی۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کمزوری پر شدت سے گرفت کی اور لوگوں کو متنبہ کیا کہ دین کے دشمنوں کے ساتھ دوستانہ روابط نہ بڑھائو۔ آج اگر کفر میں لتھڑے ہوئے لوگوں کو سینے سے لگائو گے تو یہ تمہارے لیے موجب ہلاکت ہوں گے۔ البتہ اگر ان سے دشمنی پر جمے رہے تو توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مسلمان بنا کر تمہارا دوست بنائے، چناچہ یہ بشارت اللہ تعالیٰ نے پوری کردی اور فتح مکہ کے وقت خلق نے (یدخلون فی دین اللہ افواجا) النصر : 110، 2) کا منظر اپنی آنکھوں دیکھ لیا۔