تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 6
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ع﴿6﴾
- لَقَدْ كَانَتحقیق (یقیناً ) ہے
- لَكُمْتمہارے لئے
- فِيْهِمْان میں
- اُسْوَةٌ حَسَنَةٌچال (نمونہ) بہترین
- لِّمَنْاس کے لئے جو
- كَانَ يَرْجُواامید رکھتا ہے
- اللّٰهَاللہ
- وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ ۭاور آخرت کا دن
- وَمَنْ يَّتَوَلَّاور جو، جس
- فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
- هُوَ الْغَنِيُّوہ بےنیاز
- الْحَمِيْدُستودہ صفات
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک تمہارے لیے ان لوگوں کے اندر بہترین نمونہ ہے۔ ان کے واسطے جو خدا اور آخرت کے متوقع ہیں اور جو اعراض کریں گے تو یاد رکھیں کہ اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں ستو دہ صفات ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(لقد کان لکم فیھم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید) (6)۔
(ایک برجمع تنبیہ) یہ (قد کا نت لکم اسوۃ حسنۃ) سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کے اس اعلان برأت و عداوت میں نمونہ تو بیشک نہایت بہترین ہے لیکن ان کے اس اسوہ کی پیروی کرنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس کا حوصلہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اللہ کی نصرت کی امید بھی رکھتے ہوں اور آخرت کے ظہور کے بھی متوقع ہوں۔ جن کے اندر یہ دونوں باتیں راسخ نہ ہوں وہ یہ بازی نہیں کھیل سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے گھر در، اموال واملاک، وطن اور قوم ہر چیز سے دست بردار ہو کر اٹھ کھڑے ہونا صرف انہی کے لیے ممکن ہے جو اپنے اس اقدام میں ہر قدم پر خدا کی نصرت کے متوقع ہوں اور جن کا اصل بھروسہ اس دنیا کے مال و متاع پر نہیں بلکہ آخرت کے فضل و انعام پر ہو۔ اس آیت سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو کر سامنے آگئی کہ ہجرت کی راہ میں اصل زادراہ کیا ہے اور یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ جن لوگوں سے اس مرحلے میں کمزوریاں صادر ہو رہی تھیں ان کی کمزوریوں کی تہہ میں کیا چیز چھپی ہوئی تھی۔
(ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید) یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ فلاح کا راستہ یہی ہے کہ تم ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کے اسوہ کی پیروی کرو ورنہ یاد رکھو کہ جو اس سے اعراض کریں گے اللہ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ سب سے مستغنی اور خود اپنی ذات میں ستو دہ صفات ہے۔ اس کی خدائی دوسروں کے بل پر نہیں بلکہ خود اس کے اپنے بل پر قائم و دوائم ہے۔