تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 9
اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿9﴾
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- يَنْهٰىكُمُتمہیں منع کرتا ہے
- اللّٰهُاللہ
- عَنِ الَّذِيْنَان لوگوں سے جو
- قٰتَلُوْكُمْتم سے لڑے
- فِي الدِّيْنِدین میں
- وَاَخْرَجُوْكُمْاور انہوں نے تمہیں نکالا
- مِّنْسے
- دِيَارِكُمْتمہارے گھروں
- وَظٰهَرُوْااور انہوں نے مدد کی
- عَلٰٓيپر
- اِخْرَاجِكُمْتمہارے نکالنے
- اَنْ تَوَلَّوْهُمْکہ تم دوستی کرو ان سے
- وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْاور جو ان سے دوستی رکھے گا
- فَاُولٰٓئِكَتو وہی لوگ
- هُمُ الظّٰلِمُوْنَوہ ظالم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ بس ان لوگوں سے تم کو سوالات کرنے سے روکنا ہے جنہوں نے تمہارے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے نکالنے میں مدد کی ہے اور جو اس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے تو وہ اپنے ہی اوپر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(انما ینھکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم و ظھروا علی اخراجکم ان تولو ھم ومن یتوتھم فاولیک ھو الظلمون) (9)۔
(روکا کن سے اور کس چیز سے گیا ہے ؟)۔ یہ صراحت کے ساتھ بتا دیا کہ اللہ تم کو کن لوگوں سے روکتا ہے اور خاص طور پر کس چیز سے روکا ہے۔ فرمایا کہ روک ان لوگوں سے رہا ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے یا تمہارے نکالنے میں تمہارے دشمنوں کی مدد کی ہے اور روک جس چیز سے رہا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ان کو اپنا دوست بنائو۔ دوست بنانے سے مقصود ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتا ہے کہ تم ملت کے مفاد سے قطع نظر کر کے کسی معاملے میں اپنا دست ِ تعاون اس غرض سے ان کو پیش کرو کہ وہ تمہاری کوئی ذاتی غرض پوری کرنے کا ذریعہ بنیں۔
اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں جو حضر ہے اس کا زور (ان ترتوھم) پر ہے یعنی ممنوع جو چیز ہے وہ (تولی) یعنی ان کفار کو دوست اور کار ساز بنانا ہے نہ کہ ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنا۔ نیکی ایک یک طرفہ عمل ہے۔ اس کا انحصار اس شخص کے رویہ پر نہیں ہوتا جس کے ساتھ نیکی کی جاتی ہے۔ ایک شخص حاجت مند ہے تو ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم اس کی مدد کریں، خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان اور ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس سے نہ کسی شکر یہ کے طالب ہوں نہ کسی صلہ کے (لا نرید منکم جزا ولا شکورا) (الدھر : 76، 9) یہاں تک کہ اگر کسی سبب سے اس کے خلاف ہمارے دل میں عداوت بھی ہو جب بھی ہمارے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ ہم اس کے ساتھ نیکی کریں۔ اس طرح کی نیکی کا ہم کو جیسا کہ قرآن و حدیث میں تصریح ہے، زیادہ ثواب ملے گا۔
رہا عدل و قسط کا معاملہ تو اس کی بنیاد قانون معاہدے اور معروف پر ہوتی ہے۔ اس میں کافر و مومن یا دوست و دشمن کے امتیاز کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ قانون اور معاہدے کا جو تقاضا ہوگا وہ بہر حال پورا کرنا ہوگا اس سے بحث نہیں کہ معاملہ دوست کا ہے یا دشمن کا۔ آگے کفار قریش کے ساتھ چند تو اعات کا فیصلہ آ رہا ہے اور اس میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح قرآن نے بےلاگ فیصلہ کیا ہے اور اسی بےلاگ فیصلہ پر عمل کرنے کی مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے۔ (ومن ینم لھم فاولیک ھم الظلمون) یعنی اس تنبیہ کے بعد بھی جو مسلمان ان کافروں سے سوالات کریں گے وہ یاد رکھیں کہ نہ وہ خدا کا کچھ بگاڑیں گے نہ اسلام کا بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔