Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 62. Al-Jumu'a · Ayah 1

  1. یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ﴿1﴾

    1. يُسَبِّحُ لِلّٰهِتسبیح کررہی ہے اللہ ہی کے لیے
    2. مَا فِي السَّمٰوٰتِہر وہ چیز جو آسمان میں ہے
    3. وَمَا فِي الْاَرْضِاور جو زمین میں ہے
    4. الْمَلِكِجو بادشاہ ہے
    5. الْقُدُّوْسِنہایت پاکیزہ
    6. الْعَزِيْزِزبردست
    7. الْحَكِيْمِحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
(تسبیح کرتی ہیں آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اس اللہ ہی کی جو بادشاہ، قدوس، عزیز اور حکیم ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم) (1)۔ (تمہید)۔ یہ تمہیدی آیت معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے۔ سابق سورة میں صیغہ ماضی یستبح آیا ہے جو تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں۔ الملک جس کے معنی بادشاہ کے ہیں۔ القدوس جس کے معنی ہر نقص و عیب سے پاک کے ہیں۔ العزیز جس کے معنی جیسا کہ بار بار واضح کیا جا چکا ہے غالب و مقتدر کے ہیں۔ الحکیم وہ ذات جس کے ہر قول و فعل میں حکمت ہے۔ یہ چاروں صفات آگے والی آیت کی تمہید کے طور پر یہاں آئی ہیں۔ ان کی وضاحت آیت کی تفسیر کے تحت ہی مناسب رہے گی۔