تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 62. Al-Jumu'a · Ayah 2
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ﴿2﴾
- هُوَ الَّذِيْوہ اللہ وہ ذات ہے
- بَعَثَجس نے بھیجا
- فِيمیں
- الْاُمِّيّٖنَان پڑھ لوگوں (میں)
- رَسُوْلًا مِّنْهُمْایک رسول انہی میں سے
- يَتْلُوْا عَلَيْهِمْجو پڑھتا ہے ان پر
- اٰيٰتِهٖاس کی آیات
- وَيُزَكِّيْهِمْاور ان کا تزکیہ کرنا ہے
- وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَاور سکھاتا ہے ان کو کتاب
- وَالْحِكْمَةَاور حکمت
- وَاِنْ كَانُوْااور بیشک تھے وہ
- مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
- لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍالبتہ کھلی گھمراہی میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اسی نے اٹھایا ہے امیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے۔ اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بیشک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ھو الذی بعث فی الامین رسولا منھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتب الحکمۃ وان کانوا من قبل لف ضلل مبین) (2) فرمایا کہ اسی خدا نے جو اس کائنات کا حقیقی بادشاہ ہے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ وہ ان کو اس آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ تدبر کیجئے تو معلوم ہوگا کہ تمہید کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جو صفات گنائی ہیں انہی کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے اس رسول کی بعثت ہوئی ہے جس کا یہاں ذکر ہے۔
(رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کی صفات کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہوئی)۔ وہی خلق کا بادشاہ حقیقی ہے۔ اس کی اس صفت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس نے اپنی نوعیت کو اپنے احکام و ہدایات سے آگاہ کرنے کے لیے اس کی طرف اپنا رسول بھیجا جس کی صفت یہ ہے کہ (یتلوا علیھم ایتہ) وہ لوگوں کو اس کی تعلیمات و ہدایات پڑھ کر سنا رہا ہے۔ وہ پاک اور قدوس ہے اس وجہ سے اس نے یہ چاہا کہ وہ اپنے رسول اور اپنی تعلیمات کے ذریعہ سے لوگوں کو پاکیز بنائے چناچہ اس کا رسول لوگوں کو عقائد و اعمال اور اخلاق کی خرابیوں سے پاک کر رہا ہے (یزکیھم)۔
پھر وہ عزیز اور حکیم ہے اس وجہ سے اس نے ایسا رسول بھیجا ہے جو اس کے بندوں کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دے رہا ہے۔ یہاں لفظ کتاب شریعت اور قانون کے مفہوم میں ہے۔ شریعت اور قانون کا موثر نفاذ اسی کی طرف سے ہوتا ہے جو غالب و مقتدر ہو لیکن اللہ تعالیٰ صرف غالب و مقتدر ہی نہیں بلکہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے وہ اپنے رسول کے ذریعہ سے جس قانون کی تعلیم دے رہا ہے وہ مجرد اس کے زور اقتدار کا مظہر نہیں بلکہ اس کی حکمت اور بندوں کی دنیوی و اخروی مصلحت کا بھی مظہر ہے۔ یہ آیت بنی اسماعیل پر اتنان اور اظہارفضل و احسان کے محل میں ہے اس وجہ سے یہاں ان کے لیے لفظ امین بطور ایک وصف امتیازی کے استعمال ہوا ہے۔ اس لفظ سے اس کے محل میں بحث ہوچکی ہے لیکن اتنی بات کی یاددہانی یہاں بھی ضروری ہے کہ یہ اصطلاح اگرچہ اہل کتاب بالخصوص یہود کی وضع کردہ تھی جس میں ان کے اندر مذہبی پندار کی جھلک بھی تھی اور اہل عرب کے لیے ان کا جذبہ تحقیر بھی نمایاں تھا۔ لیکن بنی اسماعیل چونکہ کتاب و شریعت سے نا آشنا تھے اس وجہ سے بغیر کسی احساس کہتری کے انہوں نے اس لقب کو اپنے لیے خود بھی اختیار کرلیا۔ پھر جب قرآن نے ان کے لیے اور ان کی طرف مبعوث ہونے والے رسول کے لیے اس لفظ کو بطور ایک وصف امتیازی کے ذکر فرمایا تو اس کا رتبہ اتنا بلند ہوگیا کہ اہل عرب کے لیے اس نے گویا ایک تشریف آسمانی کی حیثیت حاصل کرلی جس سے قدرت کی یہ شان ظاہر ہوئی کہ جن کو ان پڑھ اور گنوار کہہ کر حقیر ٹھہرایا گیا وہ تمام عالم کی تعلیم و تہذیب پر مامور ہوئے اور جن کو اپنے حامل کتاب نہ شریعت ہونے پر ناز تھا وہ (کثیل الحماد یحمل اسفار) چارپائے بروکتابے چند کے مصداق قرار پائے۔
یہاں یہ لفظ عربوں کے جذبہ شکر گزاری کو ابھارنے کے لیے استعمال ہوا ہے کہ انہیں اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ان پر نظر کرم فرمائی۔ ان کی اصلاح و تربیت اور ان کو کتاب و حکمت سے بہرہ مند کرنے کے لیے انہی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرمایا اور جاہلیت کی اس تاریکی سے ان کو نکالا جس میں وہ اپنی امیت کے سبب سے اب تک گھرے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو یہ نعمت مل گئی ہے وہ اس کو حرزجاں بنائیں اور کوشش کریں کہ دوسرے بھی اس کو قدر کریں ایسا نہ ہو کہ ناقدری کے سلب سے ہو اس سے محروم ہو کر رہ جائیں اور حاسدوں کا مقصد پورا ہوجائے۔ یہاں نبی امی ﷺ کی جو صفات مذکور ہوئی ہیں ان پر سورة ٔبقرہ کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کرچکے ہیں۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجئے تاکہ آپ کی بعثت کے مقاصد سے متعلق جو غلط فہمیاں منکرین حدیث نے پھلائی ہیں وہ دور ہوجائیں۔ بنی اسماعیل کے اندر بعینہٖ انہی صفات کے پیغمبر اٹھائے جانے کے لیے حضرت ابراہیم ؑ نے دعا فرمائی تھی۔ سورة بقرہ میں یہ دعا یوں مذکور ہے۔
(رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔) (اے ہمارے رب ! اور تو بھیجو ان کے اندر ایک رسول انہی میں سے جو تیری آیتیں ان کو پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔ بیشک تو غالب و حکیم ہے۔)
(آنحضرت ﷺ دعائے ابراہیم کے مظہر ہیں)۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح یہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کے بھی مظہر ہیں جو آپ نے اولاد اسماعیل سے متعلق فرمائی تھی، گویا گوناگوں صفتیں آپ کے اندر جمع ہیں۔ یہ نوید مسیح ہیں اور دعائے ابراہیم ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہیں اور پھر یہ کہ وہ تمہارے ہی اندر کے ایک فرد ہیں۔ تمہارے اور ان کے درمیان اجنبیت و غیریت کا کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ تمہیں حقیر ٹھہرانے والے تمہیں یہ طعنہ نہیں دے سکتے کہ تمہیں ان کے یا کسی اور کے واسطہ سے روشنی ملی بلکہ اللہ نے تمام خلق پر تم کو سر بلند کیا کہ تمہارے ذریعہ سے سارے جہان میں اجالا کرنے کا سامان کیا۔
(آنحضرت ﷺ کی بعثت تمام خلق کی طرف ہے)۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت اگرچہ امیوں کے اندر ہوئی لیکن آپ کی دعوت تمام خلق کے لیے ہے۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ آنحضرت ﷺ دو بعثثوں کے ساتھ مبعوث ہوئے۔ ایک بعثت خاص دوسری بعثت عام۔ آپ کی بعثت خاص بنی اسماعیل کی طرف ہوئی اور اس بعثت کے فرائض کی تکمیل حضور ﷺ نے بذات خود فرمائی۔ آپ کی بعثت عام، جو تمام خلق کی طرف ہوئی اس کے فرائض انجام دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو (شھداء اللہ فی الارض) کے منصب پر سرفراز فرمایا جو اب قیامت تک کے لیے اس فرض کی انجام دہی پر مامور ہے (شھد اللہ فی الارض) کے ہر اول دستہ کی حیثیت چونکہ امیوں ہی کو حاصل ہوئی اس وجہ سے یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ جو امی تھے اللہ تعالیٰ نے انہی کے واسطہ سے تمام خلق کو روشنی دکھائی۔
(وان کانو من قبل لفی فمل مبین) یہ امیوں کے جذبہ شکر وسپاس کو ابھارنے کے لیے اس تاریکی طرف توجہ دلائی ہے جو ماضی میں ان پر چھائی رہی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ جاہلیت کی اس گھٹا ٹوپ تاریکی کا خیال کریں جس میں وہ گرفتار رہ چکے ہیں تب انہیں اپنے رب کے فضل و احسان کا کچھ اندازہ ہوگا کہ اس نے ان کو کس چاہ ظلمت سے نکالا اور کس آسمان رفعت و عزت پر پہنچایا ؟