تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 62. Al-Jumu'a · Ayah 6
قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿6﴾
- قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَکہہ دیجئے اے لوگو
- هَادُوْٓاجو یہودی بنے ہو
- اِنْ زَعَمْتُمْاگر تم زعم رکھتے ہو۔ گھمنڈ رکھتے ہو۔ سمجھتے ہو
- اَنَّكُمْ اَوْلِيَآءُبیشک تم دوست ہو
- لِلّٰهِاللہ کے
- مِنْ دُوْنِ النَّاسِلوگوں کے سوا
- فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَپس تم تمنا کرو موت کی
- اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
- صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے کہو کے اے وہ لوگو ! جو یہودی ہوئے، اگر تمہارا گمان ہے کہ دوسروں کے مقابل میں تم اللہ کے محبوب ہو تو موت کے طالب بنو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(قل یایھا الذین ھادو ان زعمتم انکم اولیاء اللہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین) (6)۔
(یہود کے پندار پر ایک اور ضرب)۔ یہ ان کے اسی پندار پر ایک اور ضرب لگائی کہ اگر تمہارا زعم یہ ہے کہ تم خدا کے محبوب ہو تو اس محبت و محبوبیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ تمہارے اندر خدا کی راہ میں جان دینے کا شوق و ولولہ ہو۔ محب کو سب سے زیادہ آرزو و محبوب کی ملاقات کی ہوتی ہے۔ وہ اس چیز سے جان نہیں چراتا جو محبوب سے ملاقات کی راہ کھولے، لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ موت کا مقابلہ کرنے میں تم سے زیادہ بزدل کوئی نہیں۔ سورة صفت کی آیت 4، 5 میں ان کے حال پر جو تبصرہ فرمایا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ سورة حشر میں بنو قریظہ اور ان کے حلیفوں کی بزدلی کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے۔
(لَاْ اَنْـتُـمْ اَشَدُّ رَھْبَۃً فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنَ اللہ ِط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ۔ َایُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌط تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰیط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ۔) (الحشر۔ 59۔ 13، 14) (ان کے سینوں میں تمہارا ڈر اللہ کے خوف سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سمجھ رکھنے والے لوگ نہیں۔ یہ کبھی تم سے کھلے میدان میں لڑنے کا حوصلہ نہیں کرسکتے۔ لڑیں گے تو قلعہ بندبستوں میں یا دیواروں کی اوٹ سے۔ ان کے اپنے اندر شدید مخاصمت ہے۔ تم ان کو متحد گمان کر رہے ہو، حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عقل سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔)
سورة بقرہ میں یہی مضمون نسبۃً تفصیل سے اس طرح بیان ہوا ہے۔
(قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللہ ِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًام بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْط وَ اللہ ُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ۔ وَلَتَجِدَنَّہُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍج وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج یَوَدُّ اَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍج وَمَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَط وَ اللہ ُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ۔) (البقرۃ :۔ 20۔ 95، 96) (کہہ دو اگر دار آخرت کی تمام نعمتیں اللہ کے پاس دوسروں کے مقابل میں تمہارا ہی حق ہیں تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔ اور یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اپنی ان کرتوتوں کے سبب سے جو انہوں نے کی ہیں اور اللہ ان ظالموں سے اچھی طرح باخبر ہے اور تم ان کی زندگی کا سب سے زیادہ حریص پائو گے۔ یہاں تک کہ یہ مشرکوں سے بھی زیادہ زندگی کے حریص ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی تمنا ہے کہ ہزار سال جیے۔)
(من دون الناس سے بنی اسماعیل کی طرف اشارہ ہے۔) آیت زیر بحث ہیں (من دون الناس) کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن یہاں اشارہ خاص طور پر بنی اسماعیل ہی کی طرف ہے۔ تورات کی پیشین گوئیوں اور نسلی رقابت کی بناء پر یہود کو سب سے زیادہ پرخاش انہی سے تھی۔ اس پر خاش کی پوری سرگزشت سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہ پرخاش تھی تو شروع ہی سے لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد جب انہوں نے تاڑ لیا کہ وہ خطرہ سر پر آگیا جس سے وہ اندیشہ ناک تھے تو یہ آگ پوری طرح بھڑک اٹھی۔
(یہود کی بزدلی پر ان کی پوری تاریخ گواہ ہے) قرآن نے یہاں یہود کی جس بزدلی پر طنز کیا ہے اگرچہ وہ اس کے جواب میں بےحیائی سے کہہ سکتے تھے کہ ہم موت سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں لیکن آدمی سے اپنا باطن مخفی نہیں ہوتا۔ انہیں محسوس ہوا کہ قرآن نے ان کی نہایت دکھتی رگ پکڑی ہے چناچہ انہوں نے خاموشی ہی میں سلامتی دیکھی وہ ایک ایسی بات کی تردید کس طرح کرسکتے تھے جس کی شہادت ان کی ماضی کی تاریخ بھی دے رہی تھی اور حاضر کے واقعات بھی جس کے گراہ تھے۔