Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 64. At-Taghaabun · Ayah 11

  1. مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿11﴾

    1. مَآ اَصَابَنہیں پہنچتی
    2. مِنْ مُّصِيْبَةٍکوئی مصیبت
    3. اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِمگر اللہ کے اذن سے
    4. وَمَنْ يُّؤْمِنْۢاور جو کوئی ایمان لاتا ہے
    5. بِاللّٰهِاللہ پر
    6. يَهْدِ قَلْبَهٗوہ رہنمائی کرتا ہے اس کے دل کی
    7. وَاللّٰهُاور اللہ
    8. بِكُلِّ شَيْءٍہر چیز کو
    9. عَلِيْمٌجاننے والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اسکے دل کی رہنمائی کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ ومن یومن باللہ یھد قلبہ واللہ بکل شی علیم) (11)۔ (ایک وسوسہ کا علاج)۔ یہ اس دغدغہ کو دور فرمایا ہے جو آخرت کی بازی کھیلنے کی راہ میں مزاحم ہوسکتا ہے، فرمایا کہ اللہ و رسول کی اطاعت اور ان کی رضا طلبی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہوئے اس وسوسہ کو کوئی اہمیت نہ دو کہ کل کو کوئی مشکل پیش آگئی تو کیا ہوگا ! کوئی مصیبت بھی بندوں پر اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں آتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کسی ایسے شخص کے لیے ممکن نہیں ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو۔ تو بندے کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ جو کام وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں کرے گا وہ اس کے لیے کسی ایسی آزمائش کا سبب نہیں بن سکتا جو اس کی قوت برداشت سے زیادہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قوتوں اور صلاحیتوں سے سب سے زیادہ واقف ہے۔ وہ کسی پر اس کی قوت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالے گا۔ (ومن یومن باللہ یھد قلبہ واللہ بکل شی علیم) یہ اللہ کی راہ میں آزمائشوں کا مقابلہ کرنے والوں کی تسلی دی گئی ہے کہ اگر تم اپنے ایمان میں مضبوط رہو گے تو کوئی آزمائش تمہیں پست حوصلہ نہیں کرسکے گی بلکہ اللہ تعالیٰ عین وقت پر روح القدس کے ذریعہ سے تمہارے دل کی رہنمائی فرمائے گا۔ تمہارا رب ہر چیز سے باخبر ہے۔ وہ اپنے بندوں کے احوال کو جانتا ہے اور ٹھیک وقت پر ان کی مدد کے لیے غیب سے سامان کرتا ہے۔ یہی بات سیدنا مسیح ؑ نے بھی اپنے شاگردوں کو خطاب کر کے فرمائی ہے کہ جب لوگ تم کو میرے کام پر عدالتوں میں پکڑوائیں تو یہ فکر نہ کرتا کہ کیا کہو گے، میرا خداوند عین وقت پر روح القدس سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ سورة حدید کی آیت 22 میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔