تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ﴿12﴾
- اِنَّ الَّذِيْنَبیشک وہ لوگ
- يَخْشَوْنَجو ڈرتے ہیں
- رَبَّهُمْاپنے رب سے
- بِالْغَيْبِساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر
- لَهُمْ مَّغْفِرَةٌان کے لیے بخشش ہے
- وَّاَجْرٌاور اجر
- كَبِيْرٌبہت بڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے، ان کے لیے مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
منکرین قیامت کے انجام کے بعد یہ ان لوگوں کا صلہ بیان فرمایا ہے جو قیامت کو آنکھوں سے دیکھے بغیر، اس دنیا میں اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے بے شک ایک عظیم رحمت و مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے۔
عقل سے کام لینے والوں کا صلہ: ’یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالْغَیْْبِ‘ کے الفاظ سے ان لوگوں کا صاحب عقل و بصیرت ہونا واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے کان اور آنکھیں بند کر کے زندگی گزاری اور نہ اس بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ سامنے آ جائے گا تب مانیں گے بلکہ اس کائنات کی نشانیوں پر انھوں نے غور کیا، جن لوگوں نے ان کو ہوشیار کیا ان کی باتیں انھوں نے توجہ سے سنیں اور ان پر غور کیا اس وجہ سے یہ مستحق ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل عظیم سے نوازے۔ اس دنیا میں انسان کا اصلی امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ان حقائق پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے۔ جس نے یہ امتحان پاس کر لیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہر انعام کا حق دار ہے اور جو اس میں ناکام رہا وہ جانور بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہے اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا فلسفی اور سائنس دان مانا گیا ہو۔