Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 13

  1. وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿13﴾

    1. وَاَسِرُّوْااور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو
    2. قَوْلَكُمْبات اپنی
    3. اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖیا ظاہر کرو اس کو
    4. اِنَّهٗبیشک وہ
    5. عَلِيْمٌۢجاننے والا ہے
    6. بِذَاتِ الصُّدُوْرِسینوں کے بھید
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا علانیہ کہو وہ اس کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
منکروں کو تہدید مومنوں کو تسلی: یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہو سکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ یہاں یہ دونوں ہی کے محل میں ہیں۔ اوپر جن منکرین قیامت کا ذکر ہوا ہے ان کے لیے ان میں تہدید و وعید ہے کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب تمہارے کسی جلی یا خفی سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ تم پوشیدہ طور پر اپنی بات کہو یا علانیہ طور پر، وہ سب کو جانتا ہے۔ وہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تو اس کے سامنے سرّ و علانیہ کا کیا سوال! منکرین قیامت کے بعد غیب میں رہتے خدا سے ڈرنے والوں کا بیان ہوا ہے۔ ان کے لیے اس میں تسلی ہے کہ تمہارے کسی قول و فعل کا غیب یا شہادت میں ہونا خدا کے لیے بالکل یکساں ہے۔ رات کی خلوتوں میں تم اپنے رب سے راز و نیاز کی جو باتیں کرتے ہو وہ بھی اس کے علم میں ہیں اور دن کی جلوتوں میں جو کچھ تم کرتے ہو اور کرو گے وہ بھی اس کے سامنے ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں تو جب اس سے کوئی چیز مخفی نہیں تو اطمینان رکھو کہ تمہاری رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیکی رائگاں جانے والی نہیں بلکہ تم انے ہر عمل کا بھرپور صلہ پاؤ گے۔