تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 68. Al-Qalam · Ayah 25
وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ﴿25﴾
- وَّغَدَوْااور وہ صبح سویرے گئے
- عَلٰي حَرْدٍاوپر بخیلی کے۔ بخل کرتے ہوئے
- قٰدِرِيْنَجیسا کہ قدرت رکھنے والے ہوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ بڑے عزم و حوصلہ سے نکلے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لفظ ’حَرْدٌ‘ کے اندر تیز گامی، جوش، امنگ اور نشاط کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غریبوں اور مسکینوں کے تعاقب سے بچنے کا پورا سامان کر کے وہ بڑے حوصلہ اور پورے اعتماد کے ساتھ باغ کی طرف چلے۔ ’قَادِرِیْنَ‘ یعنی ان کے دل اعتماد و حوصلہ سے معمور تھے کہ اب کیا اندیشہ ہے، باغ اپنا ہے اور پھل تیار ہے، اب ہمارے ارمانوں میں کون خلل انداز ہو سکتا ہے! غریبوں، مسکینوں کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا سو اس کا بھی سدباب کر لیا ہے۔