Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 68. Al-Qalam · Ayah 47

  1. اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ﴿47﴾

    1. اَمْیا
    2. عِنْدَهُمُان کے پاس
    3. الْغَيْبُکوئی غیب ہے
    4. فَهُمْ يَكْتُبُوْنَتو وہ لکھ رہے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
یا ان کے پاس غیب کا علم ہے پس وہ اس کو لکھ رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ بھی ان لوگوں کی اس بے پروائی اور بے نیازی پر اظہار تعجب ہے کہ آخر یہ کس بل بوتے پر اس انذار کو اس بے نیازی سے نظرانداز کر رہے ہیں! کیا ان کے پاس علم غیب ہے جو وہ لکھ رہے ہیں کہ آخرت میں (اگر وہ ہوئی) ان کے لیے نہایت اعلیٰ مدارج ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی دلیل اور سند کے محض خواہشوں کی مدد سے اپنے لیے خیالی جنت آراستہ کر لینا اور زندگی کے حقائق سے آنکھیں موند لینا دانش مندی نہیں بلکہ اپنے لیے ابدی ہلاکت کا سامان کرنا ہے۔ یہ آیت سورۂ طور میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے سیاق و سباق کی روشنی میں ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ سورۂ نجم میں یہ جس سیاق و سباق کے ساتھ آئی ہے اس سے اس کا پورا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ ارشاد ہے: أَعِندَہُ عِلْمُ الْغَیْْبِ فَہُوَ یَرَی ۵ أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوسَی ۵ وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی ۵ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی(النجم ۵۳: ۳۵-۳۸) ’’کیا اس کے پاس علم غیب ہے پس وہ دیکھ رہا ہے (آخرت میں اپنے مدارج کو)؟ کیا موسیٰ کے صحیفوں میں جو بات بتائی گئی ہے اس کی خبر اس کو نہیں ملی؟ اور اس ابراہیم کی تعلیمات میں بھی جس نے اپنے رب کے ہر حکم کو پورا کیا؟ کہ کوئی جان بھی کسی بھی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔‘‘