Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 69. Al-Haaqqa · Ayah 10

  1. فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً﴿10﴾

    1. فَعَصَوْاتو انہوں نے نافرمانی کی
    2. رَسُوْلَ رَبِّهِمْاپنے رب کے رسول کی
    3. فَاَخَذَهُمْتو اس نے پکڑ لیا ان کو
    4. اَخْذَةًایک پکڑ
    5. رَّابِيَةًسخت سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی تو اس نے ان کو اپنی سخت گرفت میں دبوچ لیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ ان کے جرم کی نوعیت کی طرف اشارہ ہے کہ انھوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو ایسی پکڑ پکڑا جس سے پھر وہ چھوٹ نہ سکے۔ رسول کی نافرمانی خدا سے بغاوت ہے: ’عَصَوْا رَسُولَ رَبِّہِمْ‘ کے الفاظ سے ان کے جرم کی سنگینی واضح ہوتی ہے کہ خدا کا رسول شاہ کائنات کا سفیر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جولوگ اس کی نافرمانی کرتے ہیں وہ گویا شاہ کائنات کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں جس کی پاداش میں وہ باغیوں کی سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ فیصلہ کن عذاب: ’اَخْذَۃً رَّابِیَۃً‘ سے مراد وہ پکڑ ہے جس کی مدافعت نہ ہو سکے اور جو انسان کی برداشت سے زیادہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک پکڑ تو وہ ہوتی ہے جس کا مقصود صرف تنبیہ اور یاددہانی ہوتا ہے۔ اس طرح کی پکڑ سے آدمی چھوٹ جاتا ہے لیکن جب کوئی قوم خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی جسارت کرتی ہے تو وہ اس کو ایسی پکڑ پکڑتا ہے جس کی تاب لانا محال ہوتا ہے۔