تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 100
Tafseerاَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ﴿100﴾
- اَوَلَمْکیا نہ
- يَهْدِہدایت ملی
- لِلَّذِيْنَوہ لوگ جو
- يَرِثُوْنَوارث ہوئے
- الْاَرْضَزمین
- مِنْۢ بَعْدِبعد
- اَهْلِهَآوہاں کے رہنے والے
- اَنْکہ
- لَّوْ نَشَآءُاگر ہم چاہتے
- اَصَبْنٰهُمْتو ہم ان پر مصیبت ڈالتے
- بِذُنُوْبِهِمْان کے گناہوں کے سبب
- وَنَطْبَعُاور ہم مہر لگاتے ہیں
- عَلٰيپر
- قُلُوْبِهِمْان کے دل
- فَهُمْسو وہ
- لَا يَسْمَعُوْنَنہیں سنتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا سبق نہیں ملا ان کو جو ملک کے وارث بنے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آ پکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں تو وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَآ اَنْ لَّوْ نَشَاۗءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۔
الذین یرثون الارض، سے مراد یہاں قریش ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ انہیں قوموں کے بعد جن کا ذکر اوپر گزرا اس ملک میں حکومت و اقتدار کے وارث ہوئے ہیں آخر وہ اپنے مورثوں کی تاریخ سے سبق کیوں نہیں لیتے، خدا نے جس ترازو اور جس باٹ سے ان کو تولا وہ اسی باٹ اور ترازو سے ان کو کیوں نہیں تولے گا ؟ فرمایا کہ آخر وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جس طرح ہم نے ان کو ان کے جرموں کی پاداش میں ہلاک کردیا اسی طرح، جب چاہیں، ان کو بھی ہلاک کردیں۔ rnَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ بالکل اسی محل میں ہے جس محل میں سورة انعام میں فرمایا ہے قل ارءیتم ان اخذ اللہ سمعکم وابصارکم وختم علی قلوبکم من الہ غیر اللہ یاتیکم بہ۔ ان سے پوچھو اگر اللہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں سلب کرلے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ کے سوا کون ہے جو تمہیں یہ چیزیں واپس دے سکے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ دلوں پر مہر عذاب الٰہی کا مقدمہ ہے۔ کسی قوم پر عذاب الٰہی نازل ہونے سے پہلے اس کے لوں پر مہر لگتی ہے۔ اس باب میں خدا کا جو قانون ہے اس کی وضاحت ہم متعدد مقامات میں کرچکے ہیں۔ اسی کی دھمکی یہاں قریش کو دی ہے کہ ابھی تو ہم نے ان کے دلوں پر ہر نہیں کی ہے لیکن یہ ضد اور ہٹ دھرمی کی جس روش پر بڑھتے چلے جا رہے ہیں وہ وقت دور نہیں کہ ہم ان کے دلوں پر مہر کردیں اور یہ سننے سمجھنے سے بالکل ہی رہ جائیں۔ یہ ہمارے عذاب کا مقدمہ ہوگا جس کے بعد لازماً ہمارا فیصلہ کن عذاب نازل ہوجائے گا۔