Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 101

Tafseer
  1. تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ﴿101﴾

    1. تِلْكَیہ
    2. الْقُرٰيبستیاں
    3. نَقُصُّہم بیان کرتے ہیں
    4. عَلَيْكَتم پر
    5. مِنْسے
    6. اَنْۢبَآئِهَاان کی کچھ خبریں
    7. وَلَقَدْاور البتہ
    8. جَآءَتْهُمْآئے ان کے پاس
    9. رُسُلُهُمْان کے رسول
    10. بِالْبَيِّنٰتِنشانیاں لے کر
    11. فَمَاسو نہ
    12. كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْاوہ ایمان لاتے
    13. بِمَاکیونکہ
    14. كَذَّبُوْاانہوں نے جھٹلایا
    15. مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
    16. كَذٰلِكَاسی طرح
    17. يَطْبَعُمہر لگاتا ہے
    18. اللّٰهُاللہ
    19. عَلٰيپر
    20. قُلُوْبِدل (جمع)
    21. الْكٰفِرِيْنَکافر (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ہمارے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تِلْكَ الْقُرٰي نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕهَا ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ۭكَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ۔ دلوں پر مہر کب لگتی ہے ؟ دلوں پر مہر کب لگتی ہے ؟ کس طرح کے لوگوں پر لگتی ہے اور بالآخر اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ اس آیت میں ان سوالوں کا جواب ہے۔ فرمایا کہ ہم نے قوموں کی جو سرگزشت تمہیں سنائی ہے لوگوں کو چاہیے کہ اس سے سبق لیں۔ فرمایا کہ ان کے پاس خدا کے رسول نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ ان پر ایمان لانے والے نہ بنے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے خدا کی آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلاتے رہے تھے۔ آدمی کا قاعدہ ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی عام آیات سے روگردانی کا عادی ہوجاتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کا دل ایسا پتھر ہوجاتا ہے کہ رسولوں کے ذریعہ سے خاص نشانیاں بھی ظاہر ہوتی ہیں تو وہ بھی اس پر کارگر نہیں ہوتیں۔ فرمایا کہ یہ طریقہ ہے ہمارے ہاں دلوں پر مہر لگانے کا۔ دل کا کام عبرت پذیری، تفکر، تفکر اور تعقل ہے۔ اگر کوئی گروہ اس طرح اپنی خواہشوں کا اندھا بہرا مرید بن جاتا ہے کہ تزکیر و تنبیہ کے بعد بھی وہ دل کی آنکھیں نہیں کھولتا تو ایسے لوگوں کے دل بالآخر بالکل جپاٹ ہو کے رہ جاتے ہیں۔ یہ ملحوظ رہے کہ بما کذبوا، یہاں یومنوا، کا مفعول نہیں ہے بلکہ ‘ ب ’ بیان سبب کے لیے ہے۔