تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 126
Tafseerوَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ع﴿126﴾
- وَمَااور نہیں
- تَنْقِمُتجھ کو دشمنی
- مِنَّآہم سے
- اِلَّآمگر
- اَنْیہ کہ
- اٰمَنَّاہم ایمان لائے
- بِاٰيٰتِنشانیاں
- رَبِّنَااپنا رب
- لَمَّاجب
- جَآءَتْنَاوہ ہمارے پاس آئیں
- رَبَّنَآہمارا رب
- اَفْرِغْدہانے کھول دے
- عَلَيْنَاہم پر
- صَبْرًاصبر
- وَّ تَوَفَّنَااور ہمیں موت دے
- مُسْلِمِيْنَمسلمان (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
تم ہمارے درپئے آزار صرف اس غصہ میں ہو رہے ہو کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر جب کہ وہ ہمارے اپس آئیں، ایمان لائے، اے ہمارے رب، ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں وفات اسلام پر دے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایمان باللہ کے نتیجہ میں انقلاب حال : اس انقلاب حال کے سبب پر غور کیجیے تو یہ حقیقت صاف نظر آئے گی کہ اگر انسان ایمان سے خالی ہے تو اس سے زیادہ حقیر کوئی شے نہیں اور اگر وہ ایمان سے بہرہ مند ہے تو اس سے زیادہ بلند کوئی شے نہیں۔ rnۭرَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ۔ یہ آگے پیش آنے والے حالات میں صبر و استقامت کی توفیق بخشے جانے کی دعا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے ایمان کا اعلان کردیا ہے اور فرعون نے اپنی سزاؤ کا۔ اب ہمارا سارا بھروسہ اے رب، تیرے اوپر ہے۔ تو ہمارے اوپر صبر کے دونگڑے برسا اور اتمام آزمائشوں کے علی الرغم موت ایمان واسلام پر عطا فرما۔