تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 149
وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿149﴾
- وَاور
- لَمَّاجب
- سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْگرے اپنے ہاتھوں میں (نادم ہوئے)
- وَرَاَوْااور دیکھا انہوں نے
- اَنَّهُمْکہ وہ
- قَدْ ضَلُّوْاتحقیق گمراہ ہوگئے
- قَالُوْاوہ کہنے لگے
- لَئِنْاگر
- لَّمْ يَرْحَمْنَارحم نہ کیا ہم پر
- رَبُّنَاہمارا رب
- وَيَغْفِرْ لَنَااور (نہ) بخش دیا
- لَنَكُوْنَنَّضرور ہوجائیں گے
- مِنَسے
- الْخٰسِرِيْنَخسارہ پانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ان کو تنبہ ہوا اور انہوں نے دیکھا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے تو بولے کہ اگر ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمارا قصور معاف نہ کیا تو ہم نامرادوں میں سے ہوجائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ وَرَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۔
سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ ، عربی زبان کا محاورہ ہے جس کے معنی عام طور پر نادم اور خجل ہونے کے کیے گئے ہیں لیکن ندامت و خجالت کا لازم چونکہ غلطی پر متنبہ ہونا بھی ہے اس وجہ سے اگر اس کا ترجمہ متنبہ ہونا کیا جائے تو میرے نزدیک غلط نہ ہوگا۔ اس محاورے کی اصل کیا ہے ؟ اس بارے میں اہل لغت کا اختلاف ہے اور یہ اختلاف قدرتی نتیجہ ہے اس بات کا کہ ہر محاورے کی اصل کی تحقیق ہے بڑا مشکل کام۔ مجھے کبھی کبھی خیال ہوتا ہے کہ کس چیز کا ہاتھ میں گرایا جانا گویا اس کا سامنے آجانا ہے ایسی حالت میں ایک غبی بھی اس پر متنبہ ہوجاتا ہے اس لیے کہ ہاتھ کنگن کے لیے آرسی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر یہ توجیہ صحیح ان لی جائے تو مطلب یہ ہوا کہ سامری اور اس کے ساتھیوں کے پر پگنڈے سے مسحور ہو کر بنی اسرائیل یہ حماقت کرنے کو تو کر بیٹھے لیکن سامنے جب بھاں بھاں کرتا ہوا بچھڑا نظر آیا اور معلوم ہوا کہ یہ بنی اسرائیل کا خدا برآمد ہوا ہے تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، ان کو اپنی حماقت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آئی اور اپنی گمراہی کا احساس ہوا اور بولے کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمارے اس جرم کو معاف نہ کیا تو ہم تو نامراد ہوئے۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہ احساس ان لوگوں کو ہوا جن کے اندر کچھ سوجھ بوج موجود تھی۔ عوامی جوش کے بحران میں تو وہ صحیح صورت حال کا اندازہ نہ کرسکے لیکن جب نتیجہ سامنے آگیا تو ان کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے دیکھا کہ یہ تو معاملہ بہت ہی خراب ہوگیا ہے۔ اجتماعی زندگی میں اس طرح کے مواقع بڑی ہی آزمائش کے اور بڑے ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ کوئی ایک شیطان اٹھتا ہے اور جذباتی عوام کی بھیڑ اپنے اردگرد جمع کر کے کوئی ایسا فتنہ اٹھا دیتا ہے جس سے پوری جماعت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور بسا اوقات سمجھ دار اور ذمہ دار لوگ بھی اس وقت بیدار ہوتے ہیں جب پانی سر سے گزر جاتا ہے۔