Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 164

  1. وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴿164﴾

    1. وَاِذْاور جب
    2. قَالَتْکہا
    3. اُمَّةٌایک گروہ
    4. مِّنْهُمْان میں سے
    5. لِمَ تَعِظُوْنَکیوں نصیحت کرتے ہو
    6. قَوْمَایسی قوم
    7. االلّٰهُاللہ
    8. مُهْلِكُهُمْانہیں ہلاک کرنیوالا
    9. اَوْیا
    10. مُعَذِّبُهُمْانہیں عذاب دینے والا
    11. عَذَابًاعذاب
    12. شَدِيْدًاسخت
    13. قَالُوْاوہ بولے
    14. مَعْذِرَةًمعذرت
    15. اِلٰىطرف
    16. رَبِّكُمْتمہارا رب
    17. وَلَعَلَّهُمْاور شاید کہ وہ
    18. يَتَّقُوْنَڈریں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یاد کرو جب کہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کیے جا رہے ہو جنہیں یا تو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں ایک سخت عذاب دینے والا ہے۔ وہ بولے کہ یہ اس لیے کہ یہ تمہارے رب کے سامنے ہماری طرف سے عذر بن سکے اور تاکہ یہ خدا کے غضب سے بچیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس بستی کے لوگوں نے شقاوت کی یہ راہ سجھانے بجھانے والوں کے علی الرغم اختیار کی۔ یہ نہیں تھا کہ ان کو کوئی آگاہ کرنے والا نہیں تھا، اللہ کے ایسے بندے وہاں تھے جنہوں نے ان کو نہ صرف اس جرم سے روکنے کی کوشش کی بلکہ اس حد تک کوشش کی کہ ان کے اپنے ساتھیوں میں سے ایک جماعت نے اب مزید سمجھانے کو بالکل غیر مفید سمجھا اور یہ کہا کہ ایسے لوگوں کو سمجھانے سے کیا حاصل جواب یا تو ہلاک ہونے والے ہیں یا کم از کم یہ کہ کسی شدید عذاب کی پکڑ میں آنے والے ہیں۔ لیکن اللہ کے ان بندوں نے اس نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کو یہ جواب دیا کہ ہمارا سمجھانے کا کام جاری رہنا چاہیے۔ اگر یہ لوگ نہ مانے تو ہم اللہ کے ہاں اپنے فض سے سبکدوش ٹھہریں گے اور کیا عجب کہ مان ہی جائیں، سو اگر مان گئے تو یہی مطلوب ہے۔ نہی عن المنکر کے بارے میں ذمہ داری کی حد : اس سے اس ذمہ داری کی حد معین ہوتی ہے جو ہر مومن پر دوسروں کو برائی سے روکنے اور بھلائی کی دعوت دینے کی عاید ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ اس میں کوئی مرحلہ ایسا نہیں آتا جب داعی اور ناصح یہ فرض کرلیں کہ اب دعوت و نصیحت کا فرض ادا ہوگیا اس لیے نہ ماننے والوں کو عذاب الٰہی کے لیے چھوڑ دینا چاہیے بلکہ یہ کام زندگی کے آخری لمحے تک کرتے رہنا چاہیے اگرچہ ایک شخص بھی نصیحت کا قدر کرنے والا نہ نکلے۔ عنداللہ ایسے ہی لوگ اپنے فرض سے سبکدوش قرار پائیں گے۔ وہ لوگ اللہ کے ہاں بری نہیں ہوں گے جو خود اگرچہ برائی میں مبتلا نہ ہوں لیکن دوسرے کے خیر و شر سے بالکل بےتعلق ہو کر زندگی گزاریں۔ اس مضمون پر مفصل بحث انفال آیت 25 کے تحت آئے گی۔