Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 194

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿194﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. الَّذِيْنَوہ جنہیں
    3. تَدْعُوْنَتم پکارتے ہو
    4. مِنْسے
    5. دُوْنِ اللّٰهِسوائے اللہ
    6. عِبَادٌبندے
    7. اَمْثَالُكُمْتمہارے جیسے
    8. فَادْعُوْهُمْپس پکارو انہیں
    9. فَلْيَسْتَجِيْبُوْاپھر چاہیے کہ وہ جواب دیں
    10. لَكُمْتمہیں
    11. اِنْاگر
    12. كُنْتُمْتم ہو
    13. صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو یہ تو تمہارے ہی جیسے بندے ہیں پس ان کو پکار دیکھو، وہ تمہیں جواب دیں، اگر تم سچے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔ یعنی یہ خود تمہاری ہی طرح خدا کی مخلوق ہیں تو یہ تمہاری مدد یا رہنمائی کیا کرسکتے ہیں اور اگر تمہارا دعوی یہ ہے کہ یہ تمہاری مدد اور رہنمائی کرسکتے ہیں تو ان کو پکارو، یہ تمہاری مدد کرٰں۔ یہ مشرکین کو اسی طرح چیلنج ہے جس طرح کا چیلنج وادعو شہداء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین (اور بلا لو اپنے شریکوں کو بھی جن کو تم اللہ کے سوا مانتے ہو، اگر تم سچے ہو) میں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اب تک تو تم نے اپنے ان خیالی معبودوں کو جو چاہا مانا اور جو چاہا منوایا لیکن اب پیغمبر اور قرآن نے ان سب کی خدائی کو چیلنج کردیا ہے۔ اب وقت ہے کہ وہ تمہاری مدد اور رہنمائی کے لیے پہنچیں اور تم کو بھی اور خود اپنے آپ کو بھی سنبھالیں۔ اگر انہوں نے اپنی خدائی بچالی تو بیشک معلوم ہوگا کہ تم سچے ہو۔ یہ بات واضح رہے کہ اہل عرب جن بتوں کو پوجتے تھے وہ ان کے گمان کے مطابق فرشتوں، جنات اور کواکب کے بت تھے اس وجہ سے ان کو عبادت امثالکم فرمایا ہے۔ تفصیل اس کی ہماری کتاب حقیقت شرک میں ملاحظہ فرمائیے۔