تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 1
سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ﴿1﴾
- سَاَلَسوال کیا
- سَآئِلٌۢسوال کرنے والے نے
- بِعَذَابٍعذاب کا
- وَّاقِعٍجو واقع ہونے والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جلدی مچائی جلدی مچانے والے نے واقع ہونے والے عذاب کی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سوال بانداز استعجال:
’سوال‘ کے مختلف معانی پر اس کے محل میں بحث ہو چکی ہے یہاں اس کا صلہ ’ب‘ کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ استعجال یا استہزاء کے مفہوم پر متضمن ہے۔ یعنی ایک سوال کرنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کی جلدی مچائی یا اس کا مذاق اڑایا۔ قریش کے متمردین کو جب عذاب سے ڈرایا جاتا تو وہ پوچھتے کہ وہ عذاب کہاں ہے؟ عذاب آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتا؟ ہم کب سے اس کے ڈراوے سن رہے ہیں وہ چلا تو راہ میں کہاں لنگر انداز ہو گیا کہ اب تک وہ نہیں پہنچا؟ اس طرح کے سوالات ظاہر ہے تحقیق کے لیے نہیں بلکہ پیغمبر ﷺ کو زچ کرنے اور عذاب کا مذاق اڑانے کے لیے کیے جاتے تھے۔ ان سوالوں کے اندر جلد بازی اور استہزاء دونوں کے مفہوم پائے جاتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ اس جلد بازی کا مقصد ہی مذاق اڑانا ہوتا تھا۔ ’ب‘ کے صلہ نے ’سوال‘ کے اس مضمر مضمون کو واضح کر دیا اس لیے استعجال اور استہزا دونوں کا صلہ ’ب‘ سے آتا ہے، مثلاً ’یَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ‘ (العنکبوت ۲۹: ۵۴) اسی طرح ’اِسْتِھْزَآءٌ‘ کا صلہ بھی ’ب‘ ہی آتا ہے۔