تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 11
یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ﴿11﴾
- يُّبَصَّرُوْنَهُمْوہ دکھائے جائیں گے ان کو
- يَوَدُّچاہے گا
- الْمُجْرِمُمجرم
- لَوْ يَفْتَدِيْکاش فدیے میں دے دے
- مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍۢاس دن کے عذاب سے
- بِبَنِيْهِاپنے بیٹے کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ ان کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم تمنا کرے گا کہ کاش ! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔
’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش! اپنے محبوب سے محبوب عزیزوں کو فدیہ میں دے کر اس سے اپنے کو چھڑا سکیں تو چھڑا لیں۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی، صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو چاہے گا کہ فدیہ میں دے کر اس عذاب سے اپنی جان بچا لے جائے۔ لیکن یہ تمنا تمنا ہی رہے گی۔ اس دن نہ کسی کے پاس کوئی چیز فدیہ میں دینے کے لیے ہو گی اور نہ کسی کا کوئی فدیہ قبول ہو گا بلکہ ہر ایک کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔
غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں وہ تمام رشتے مذکور ہوئے ہیں جن کے لیے آدمی میں فطری محبت اور حمایت و مدافعت کی گہری حمیت ہوتی ہے۔ کنبہ و خاندان کے ذکر کے ساتھ خاص طور پر اس کی صفت ’تُؤِْیْہِ‘ آئی ہے یعنی جو خاندان زندگی بھر اس کا ملجا و مامن رہا، جس نے دشمنوں سے اس کی حفاظت کی اور جس کی مدافعت میں وہ خود عمر بھر سربکف رہا، اس کو بھی وہ فدیہ میں دے کر اپنے کو بچانے کی تمنا کرے گا۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں خاندان اور قبیلہ کی حفاظت و مدافعت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو شخص قبیلہ و خاندان کی مدافعت میں سربکف رہتا وہ ہیرو سمجھا جاتا اور جو قبیلہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان کرتا یا کسی خطرے کے وقت اس کی مدافعت سے جی چراتا نہ وہ خود کہیں منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ س کی آئندہ نسلیں۔