تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 18
وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى﴿18﴾
- وَجَمَعَاور جمع کیا
- فَاَوْعٰىپھر سمیٹ کر رکھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
مال جمع کیا اور اس کو سینت سینت کر رکھا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
بخیلوں کا انجام:
یہ خاص طور پر بخیلوں کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ ایمان بالآخرت اور انفاق کی دعوت سب سے شاق انہی کے دلوں پر گزرتی ہے۔ آخرت کی فلاح کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنا مال اس دنیا کی تجوریوں میں بند رکھنے کے بجائے خدا کے بنک میں جمع کرے۔ بخیل اس کو خسارے کا سودا سمجھتا ہے۔ نہ وہ جزا و سزا پر اعتقاد ہی رکھتا اور نہ آخرت کے نسیہ کی خاطر اپنا نقد مال قربان کرنے کا وہ حوصلہ ہی اپنے اندر پاتا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی مخالفت میں بخیل سب سے پیش پیش رہے ہیں۔ بخالت اور جزا و سزا کی تکذیب دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہے:
’أَرَأَیْْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ۵ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۳)
(دیکھا اس کو جو جزا کو جھٹلاتا ہے! وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھلانے پر لوگوں کو نہیں ابھارتا)۔
’جَمَعَ‘ کے ساتھ ’فَاَوْعٰی‘ کے لانے سے مقصود اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہے کہ انھوں نے آنکھیں بند کر کے، حرام و حلال ہر راہ سے، مال جمع بھی کیا اور پھر اس کو نہایت اہتمام سے گن گن کر محفوظ بھی کیا۔ دوسرے مقام میں بخیلوں کی اسی خصلت کو ’جَمَعَ مَالاً وَعَدَّدَہُ‘ (الھمزۃ ۱۰۴: ۲) (مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا) سے تعبیر کیا ہے۔۔۔ فرمایا کہ اس طرح کے بخیلوں کو بھی جنھوں نے جزا پر ایمان نہ رکھنے کے سبب سے پیغمبر کی دعوت انفاق سے اعراض کیا اس دن جہنم کی آگ کھینچ بلائے گی۔