تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 19
اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ﴿19﴾
- اِنَّ الْاِنْسَانَبیشک انسان
- خُلِقَپیدا کیا گیا
- هَلُوْعًابےصبرا۔ تھڑ دلا
Translation · Tadabbur-e-Quran
انسان بےصبر پیدا کیا گیا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’ھَلوع‘ کے معنی جلد باز، بے صبرے اور تھڑدلے کے ہیں۔
عام لفظ سے خاص گروہ کی طرف اشارہ: لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے اشارہ انہی انسانوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ اللہ نے ان کو مہلت دی تو اس کی قدر کرنے کے بجائے عذاب کی جلدی مچائے ہوئے ہیں اور ابھی پکڑ میں آ جائیں گے تو واویلا کرنا شروع کر دیں گے۔ خدا نے مال دیا ہے تو اس سے آخرت کی کمائی کرنے کے بجائے اس پر مار گنج بن کر بیٹھ گئے ہیں، اس کو اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ اور اپنے استحقاق کا کرشمہ سمجھ رہے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ یہ جو کچھ انھیں حاصل ہے اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کے منظور نظر ہیں اس وجہ سے انھیں یہ برابر حاصل رہے گا اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں اس سے بھی زیادہ ان کے لیے محفوظ ہے۔ لیکن ابھی کوئی افتاد پیش آ جائے تو فوراً مایوس اور دل شکستہ ہو کر واویلا شروع کر دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی شیخی اور اکڑ کی پروا نہ کرو۔ یہ نہایت اوچھے اور تھڑ دلے لوگ ہیں۔
کسی خاص جماعت کو جب اس طرح کسی عام لفظ سے ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، بے اعتنائی بلکہ اس کی تحقیر کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا متکلم نے اس کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اس کو مخاطب کرے یا اس کی طرف اشارہ بھی کرے۔ یہ اسلوب بیان ہماری اپنی زبان میں بھی معروف ہے۔
داعیات میں عدم توازن: ’اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا‘ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح سورۂ انبیاء آیت ۳۷ میں ’خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ‘ یا سورۂ بنی اسرائیل آیت ۱۱ میں ’وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا‘ آیا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر جس طرح شہوت، غضب، حرص اور اس قبیل کے دوسرے داعیات کا ایک مقام ہے اسی طرح عجلت کا بھی ایک موقع و محل ہے۔ یہ شے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بے محل یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو متضاد داعیات کی کشمکش میں پیدا کر کے اس سے یہ چاہا ہے کہ وہ خدا کے احکام کے مطابق، جن کی تعلیم اس کو نبیوں کے ذریعہ سے دی گئی ہے، ان کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور اس کے قوانین کا تابع بنائے۔ اس امتحان میں کامیابی ہی پر انسان کی تمام اخروی سعادت کا انحصار ہے۔ اختیار کا شرف بھی اس کو اس امتحان کے لیے عطا ہوا ہے۔ یہ امتحان مقصود نہ ہوتا تو انسان کو اختیار سے مشرف کرنے کے کوئی معنی بھی نہ ہوتے اور اس کو دوسری مخلوقات پر برتری حاصل کرنے کی بھی کوئی وجہ نہ ہوتی۔
آیت میں جس چیز کو ’ھلع‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے یہ بھی جلد بازی اور بے صبری ہی کی ایک شکل ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہو جائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہو جائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق گویا اسی عنصر سے ہوئی ہے۔ ہانڈی میں نمک ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہو جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہانڈی نمک ہی سے تیار ہوئی ہے۔