Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 27

  1. وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ﴿27﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ
    2. هُمْوہ
    3. مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْاپنے رب کے عذاب سے
    4. مُّشْفِقُوْنَڈرنے والے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہنے والے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَالَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَ‘۔ یہ اسی تصدیق بیوم الدین کی وضاحت ہے کہ وہ جزا و سزا پر ایمان رکھتے ہیں اس وجہ سے اپنے رب کے عذاب سے برابر لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ ان کے اس باطن پر سورۂ دہر میں یوں روشنی ڈالی گئی ہے: ’یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا ہ وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا ہ اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًا ہ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا‘ (الدہر ۷۶: ۷-۱۰) (اور وہ اپنی نذریں پوری کرتے اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہمہ گیر ہو گی اور مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں، اس کی کمیابی اور اس کے ضرورت مند ہونے کے باوجود۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف رضائے الٰہی کے لیے کھلاتے ہیں، تم سے کسی بدلے یا شکرگزاری کے خواہاں نہیں ہیں۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت منحوس قسم کے دن کا اندیشہ رکھتے ہیں)۔ انفاق کا یہی محرک فطری، بے ریا، بے غرض اور پاکیزہ محرک ہے اس وجہ سے قرآن نے اسی کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے سوا جو دوسرے محرکات ہیں یا جو مصنوعی طور پر پیدا کیے جاتے ہیں وہ تمام تر کاروباری محرکات ہیں جن سے نہ تو نفس کی کوئی اصلاح ہوتی ہے اور نہ ان کے تحت کیا ہوا انفاق خدا کے ہاں مقبول ہے۔ اس نکتہ کی وضاحت پیچھے بھی ہو چکی ہے اور آگے بھی اس کے بعض اہم پہلو ’ان شاء اللہ‘ روشنی میں آئیں گے۔