تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 3
مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ﴿3﴾
- مِّنَ اللّٰهِاللہ کی طرف سے
- ذِي الْمَعَارِجِجو عروج کے زینوں کا مالک ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ مدارج والے خداوند کی طرف سے ہوگا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ کے دنوں کو اپنے دنوں پر قیاس نہ کرو: یعنی وہ عذاب آئے گا تو ضرور۔ جس خدا نے اس کی دھمکی دی ہے اس کا ہر وعدہ اور اس کی ہر وعید شدنی ہے لیکن اس کی بارگاہ بہت بلند ہے۔ وہ بڑی بلندیوں، بڑے مدارج اور زینوں والا ہے۔ اس کے دربار سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ اس کے اپنے پروگرام کے مطابق ہوتے ہیں اور ان سالوں اور دنوں کے اعتبار سے بنتے ہیں جو اس کے ہاں معتبر ہیں۔ اس کے ہاں کا ایک دن انسانی تقویم کے حساب سے ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے دنوں اور سالوں کو لوگ اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپیں۔ انسان کی یہی تنگ نظری اس کو خدا کے فیصلوں کے بارے میں بے صبرا اور جلد باز بنا دیتی ہے۔ وہ ہر معاملے میں ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی کوشش کرتا اور اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے الگ الگ عالم بنائے ہیں اور ہر ایک کا مدار اور نظام الگ الگ ہے۔ ہم نہ تو اس کی کائنات کے سارے بھیدوں کو جان سکتے اور نہ اپنے دنوں اور اپنی گھڑیوں سے اس کے دنوں کا حساب کر سکتے۔ سورۂ حج میں اسی حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے:
وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ وَلَنۡ یُخْلِفَ اللہُ وَعْدَہٗ وَإِنَّ یَوْمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَأَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (الحج ۲۲: ۴۷)
’’وہ تم سے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرنے والا نہیں ہے۔ اور واضح رہے کہ تمہارے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار سالوں کے برابر ہوتا ہے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ تمہارے پیمانے بہت چھوٹے ہیں۔ تم ہر وعدے اور ہر وعید کو اپنے دنوں کے حساب سے جانچتے ہو اس وجہ سے تمہیں محسوس ہوتا ہے کہ فلاں وعدے پر بڑی طویل مدت گزر گئی اور وہ پورا نہیں ہوا حالانکہ خدائی دنوں کے حساب سے ابھی اس پر سیکنڈ یا منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا ہوتا۔