Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 32

  1. وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ﴿32﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ
    2. هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْوہ اپنی امانتوں کے لیے
    3. وَعَهْدِهِمْاور اپنے وعدوں کے
    4. رٰعُوْنَنگران ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک ہی بات جو نیکیوں کا شیرازہ ہے: ایک ہی جامع بات بہت سی نیکیوں کا شیرازہ ہے۔ فرمایا کہ ’اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں‘۔ لفظ ’امانت‘ محدود معنی میں نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ انسان کی جتنی قوتیں اور صلاحیتیں ہیں اور جن اسباب و وسائل سے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کو بہرہ مند فرمایا ہے، وہ سب اس کی تحویل میں امانت ہیں اور ایک دن ان میں سے ایک ایک کی بابت اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ ان کے استعمال میں کوئی خیانت تو نہیں کی گئی ہے؟ قرآن میں تصریح ہے کہ سمع و بصر اور عقل و دل کی تمام صلاحیتوں سے متعلق ایک دن پرسش ہونی ہے اور جس نے بھی کوئی خیانت کی ہو گی وہ اس کی سزا بھگتے گا۔ اسی طرح یہ بھی تصریح ہے کہ قیامت کے دن ہر نعمت سے متعلق سوال ہو گا۔ اسی طرح لفظ ’عھد‘ بھی یہاں وسیع معنوں میں ہے۔ وہ عہد بھی اس میں شامل ہے جو باہمی قول و قرار سے ہمارے اندر وجود میں آتا ہے، وہ عہد بھی اس میں شامل ہے جو اگرچہ قول و قرار سے وجود میں نہیں آتا لیکن ہر اچھے معاشرے میں وہ مسلم اور معروف ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہماری فطرت سے جو عہد لیا ہے وہ بھی اس میں شامل ہے اور سب سے زیادہ اہم حصہ اس کا وہ عہد و میثاق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے ہم سے لیا ہے اور جس کی دفعات نہایت وضاحت سے شریعت میں مرقوم ہیں۔