Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 34

  1. وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ﴿34﴾

    1. وَاور
    2. الَّذِيْنَوہ لوگ
    3. هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْوہ اپنی نمازوں پر
    4. يُحَافِظُوْنَحفاظت کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نماز ہی دین کے لیے حصار ہے: اب یہ آخر میں نماز کا پھر ذکر فرمایا۔ آیات ۲۲-۲۳ میں نماز ہی سے ان صفات کے بیان کا آغاز فرمایا تھا اور اب اسی پر اس باب کو ختم کیا جس سے یہ بات بالبداہت نکلتی ہے کہ نماز ہی ان تمام نیکیوں کا منبع بھی اور وہی ان کی محافظ بھی ہے۔ گویا تمام دین و اخلاق کے لیے نماز کی حیثیت حصار کی ہے۔ جس نے اس حصار کو محفوظ رکھا وہ اپنے دین کو محفوظ رکھے گا اور جس نے اس حصار کو توڑ دیا وہ اپنے سارے دین کو ضائع کر بیٹھے گا۔ اس حقیقت کی وضاحت حضرت عمر فاروق ؓ نے یوں فرمائی ہے کہ ’جو نماز کو ضائع کر دے گا وہ باقی دین کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کر بیٹھے گا‘۔ یہاں اس پہلو پر بھی نگاہ رہے کہ اوپر والی آیت میں نماز کی مداومت کا ذکر ہے اور اس آخری آیت میں اس کی محافظت کی تاکید ہے۔ محافظت سے مراد نماز کو ان آفات و خطرات سے محفوظ رکھنا ہے جو اس کی افادیت کو برباد کر دینے والے ہیں۔ مثلاً یہ کہ نماز پڑھی تو جائے لیکن اوقات کی پابندی یا جماعت کی حاضری کا اہتمام نہ رکھا جائے، یا نماز کے ساتھ ایسے افعال کا ارتکاب کیا جائے جو اس کے مقاصد کے منافی ہوں۔ ان خطرات و آفات کی پوری وضاحت ہم نے اپنے رسالہ ’حقیقت نماز‘ میں بھی کی ہے اور اپنی کتاب ’تزکیۂ نفس‘ میں بھی۔ جن کو تفصیل مطلوب ہو ان کی مراجعت کریں۔؂۱ _____ ؂۱ معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یہ آیتیں سورۂ مومنون کے شروع میں بھی گزر چکی ہیں۔ وہاں ان کے ہر جزو پر ہم نے تفصیل سے بحث کی ہے۔