تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 39
كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ﴿39﴾
- كَلَّاہرگز نہیں
- اِنَّا خَلَقْنٰهُمْبیشک ہم نے، پیدا کیا ہم نے ان کو
- مِّمَّا يَعْلَمُوْنَاس سے جو وہ جانتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہر گز نہیں ! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ ان مغروروں کے اس زعم باطل پر ضرب لگائی ہے کہ یہ اپنے تقدس اور بزرگی کی حکایت زیادہ نہ بڑھائیں۔ ان کا یہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر ہونے والا نہیں ہے۔ ہم نے ان کو جس چیز سے پیدا کیا ہے وہ ان سے مخفی نہیں ہے۔ اس کو بھول نہ جائیں۔ یعنی پانی، کیچڑ، مٹی اور مٹی سے پیدا ہونے والی مخلوق کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ شرافت حسب و نسب کے غرور میں اپنے آپ کو جنت کا موروثی حق دار سمجھ بیٹھے! مجرد خِلقت کے اعتبار سے کسی کو بھی کوئی شرف حاصل نہیں ہے۔ شرف اور استحقاق حاصل ہو سکتا ہے تو ان اعمال کی بنا پر حاصل ہو سکتا ہے جو اللہ کو پسند ہیں۔ اگر یہ متاع کسی کے پاس نہیں ہے تو اجزائے خلقت کے اعتبار سے تو نہ صرف تمام انسان بلکہ ناپاک سے ناپاک حیوانات بھی اس کے مساوی ہیں۔ یہی مضمون سورۂ نجم میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے:
ہُوَ أَعْلَمُ بِکُمْ إِذْ أَنشَأَکُمۡ مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنۡتُمْ أَجِنَّۃٌ فِیْ بُطُوۡنِ أُمَّہَاتِکُمْ فَلَا تُزَکُّوۡا أَنفُسَکُمْ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی (النجم ۵۳: ۳۲)
’’وہ تم کو خوب جانتا ہے جب کہ اس نے زمین سے تم کو پیدا کیا اور جب کہ تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بشکل جنین رہے تو اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہراؤ۔ وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جنھوں نے پرہیزگاری اختیار کی۔‘‘
سورۂ نجم کی تفسیر میں ہم نے اشارہ کیا ہے کہ یہ آیت صوفیوں کے عقیدۂ وحدت الوجود پر بھی ایک ضرب کاری ہے۔