Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 40

  1. فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ﴿40﴾

    1. فَلَآپس نہیں
    2. اُقْسِمُمیں قسم کھاتا ہوں
    3. بِرَبِّ الْمَشٰرِقِمشرقوں کے رب کی
    4. وَالْمَغٰرِبِاور مغربوں کے
    5. اِنَّا لَقٰدِرُوْنَبیشک ہم البتہ قادر ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے خداوند کی کہ ہم قادر ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عربیت کا ایک خاص اسلوب: یہ اسی طرح کی قسم ہے جس طرح کی قسم پچھلی سورہ کی آیات ۳۸-۳۹ میں گزر چکی ہے۔ قسم سے پہلے جو ’لَا‘ ہے اس کی وضاحت سابق سورہ میں ہو چکی ہے۔ ’مشارق‘ اور ’مغارب‘ کے الفاظ اپنے مقام پر زیربحث آ چکے ہیں۔ قرآن میں یہ الفاظ واحد، مثنیٰ اور جمع تینوں شکلوں میں استعمال ہوئے ہیں اور تینوں ہی صورتوں میں معنی کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ عربی زبان میں بعض مرتبہ مثنیٰ کسی شے کے دونوں اطراف کی طرف اشارہ کے لیے آتا ہے جس طرح سورۂ کہف میں ’بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ‘ آیا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات جمع محض کسی شے کی وسعت اطراف کو ظاہر کرنے کے لیے آتی ہے جس کی وضاحت ہم نے سورۂ اعراف کی تفسیر میں کی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم تمام مشرق و مغرب کے خداوند ہونے کی حیثیت سے کھا کر اپنی اس غیر محدود قدرت کا اثبات فرمایا ہے کہ وہ جب چاہے گا لوگوں کو ان کے مر کھپ جانے کے بعد ازسرنو زندہ کر دے گا اور کوئی مشکل بھی اس کے ارادے میں آڑے نہیں آئے گی۔ اس قسم میں شہادت کا پہلو، جو قسم کا اصل مدعا ہوتا ہے، بالکل واضح ہے۔ اس کائنات میں ہم روز یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج، چاند اور کروڑوں اربوں کواکب و نجوم کائنات کے خداوند کے حکم سے طلوع اور غروب ہوتے ہیں تو کیا جس خدائے قادر و قیوم کے اختیار میں ان کو روز غائب کر دینے کے بعد پھر نمودار کر دینا بھی ہے اس کے لیے لوگوں کو ان کے مر کھپ جانے کے بعد ازسرنو زندہ کر دینا مشکل ہو جائے گا؟ پہلا کام زیادہ مشکل ہے یا دوسرا؟ جو پہلے پر قادر ہوا تو وہ دوسرے سے کیوں قاصر رہ جائے گا! سورۂ نازعات میں یہی دلیل زیادہ جامع اسلوب میں بیان ہوئی ہے: ءَ اَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقاً أَمِ السَّمَآءُ بَنَاہَا ۵ رَفَعَ سَمْکَہَا فَسَوَّاہَا ۵ وَأَغْطَشَ لَیْْلَہَا وَأَخْرَجَ ضُحَاہَا ۵ وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحَاہَا ۵ أَخْرَجَ مِنْہَا مَآءَ ہَا وَمَرْعَاہَا ۵ وَالْجِبَالَ أَرْسَاہَا۔ (النازعات ۷۹: ۲۷-۳۲) ’’کیا تمہارا دوبارہ پیدا کیا جانا زیادہ کٹھن ہے یا آسمان کا؟ اس کو بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا اور اس کو ہموار کیا۔ اور اس کی رات کو ڈھانک دیا اور اس کے دن کو بے نقاب کیا اور زمین کو اس کے بعد بچھایا اور اس سے اس کا پانی اور چارہ برآمد کیا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘