Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 6

  1. اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ﴿6﴾

    1. اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗبیشک وہ دیکھتے ہیں اس کو
    2. بَعِيْدًادور
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ اس کو بہت دور خیال کر رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اہل بصیرت قیامت کو دور نہیں سمجھتے: ’إِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا ۵ وَنَرَاہُ قَرِیْبًا‘۔ یعنی ان لوگوں کی نظر بہت محدود ہے اس وجہ سے یہ اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے بہت دور خیال کر رہے ہیں حالانکہ ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں اور اصل دیکھنا ہمارا دیکھنا ہے۔ اگر ان کے اندر بھی بصیرت ہوتی تو یہ بھی اس کو قریب ہی دیکھتے لیکن ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اس وجہ سے انھیں قریب کی چیز دور دکھائی دے رہی ہے۔ وہ دن آئے گا تو یہ پٹی کھل جائے گی اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ جس چیز کو وہ بہت دور سمجھا تھا وہ نہایت قریب نکلی۔ ’فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۲۲) (پس آج تو تیری نگاہ بہت تیز ہے) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جن کی نگاہوں میں بصارت کے ساتھ بصیرت ہوتی ہے وہ اس مغالطہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ صاحب بصیرت اللہ کی روشنی سے دیکھتا ہے اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ اس دن کو قریب سے دیکھتا ہے اسی طرح مومن بھی اس کو قریب ہی دیکھتا ہے۔