Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 1

  1. قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ﴿1﴾

    1. قُلْآپ فرمادیں
    2. اُوْحِيَمجھے وحی کی گئی
    3. اِلَيَّمیری طرف
    4. اَنَّهُ اسْتَمَعَکہ اسے سنا
    5. نَفَرٌایک جماعت
    6. مِّنَسے، کی
    7. الْجِنِّجنات
    8. فَقَالُوْٓاتو انہوں نے کہا
    9. اِنَّابیشک ہم
    10. سَمِعْنَاہم نے سنا
    11. قُرْاٰنًاقرآن
    12. عَجَبًاایک عجیب
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کو سنا تو انہوں نے اپنی قومی کو بتایا کہ ہم نے ایک نہایت دل پذیر قرآن سنا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
جنوں کے تاثرات کی اطلاع پیغمبرؐ کو وحی کے ذریعہ ہوئی: ’قُلْ اُوْحِیَ‘ کے الفاظ سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ جنوں کے جو تاثرات اس سورہ میں بیان ہوئے ہیں وہ نبی ﷺ کو براہ راست جنوں کی زبانی نہیں بلکہ وحی الٰہی کے ذریعہ معلوم ہوئے۔ ان کی ایک جماعت نے سرِ راہے کہیں نبی ﷺ کو قرآن پڑھتے سنا جس کی کشش نے ان کے دلوں کو اس طرح موہ لیا کہ وہ اس کے سننے میں ہمہ تن محو ہو گئے اور پھر اس دل پذیر کلام سے اس قدر متاثر ہوئے کہ پلٹے تو اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوئے۔ واقعہ کو سنانے کا مقصد: یہ کس موقع کا ذکر ہے؟ اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ اسی واقعہ کی تفصیل ہے جس کا اجمالی ذکر سورۂ احقاف میں ہوا ہے۔ وہاں روایات کی روشنی میں اس کے موقع و محل کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ جنوں کے ان تاثرات کی آپ کو اس لیے اطلاع دی گئی کہ اپنی قوم کو آپ سنا دیں کہ جس کلام بلاغت نظام کے ساتھ تمہارا سلوک یہ ہے کہ اس کو سن کر تم کانوں میں انگلیاں دے لیتے اور اس کے سنانے والے کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوتے ہو درآنحالیکہ یہ کلام تمہارے ہی لیے اترا ہے، اس کلام کو سن کر ذی صلاحیت جنات اس طرح اس کے عاشق ہو جاتے ہیں کہ اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ وہ براہ راست اس کے مخاطب بھی نہیں۔ لفظ ’قُلْ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ جنوں کے ان تاثرات سے نبی ﷺ کو اس مقصد سے آگاہ فرمایا گیا کہ آپ قریش کے لیڈروں کو یہ سنا دیں کہ ان کو کچھ غیرت آئے۔ ضمناً اس میں آپ کے لیے تسلی بھی ہے کہ نااہلوں کی ناقدری سے آپ آزردہ نہ ہوں۔ اگر یہ لوگ اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس میں قصور نہ اس کلام کا ہے نہ آپ کا بلکہ یہ خود ان لوگوں کے اپنے دلوں کے فساد کا نتیجہ ہے۔ جنوں کی دعوت اپنی قوم کو: ’فَقَالُوْا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا‘۔ یہ وہ دعوت ہے جو انھوں نے اس کلام کو سننے کے بعد اپنی قوم کو دی۔ یعنی اس کو سن کر وہ صرف واہ واہ کر کے نہیں رہ گئے بلکہ انھوں نے حق کی قدردانی اور اپنی قوم کی خیرخواہی کا یہ لازمی تقاضا سمجھا کہ جس نعمت آسمانی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند فرمایا اس سے وہ اپنی قوم کو بھی بہرہ مند کریں۔ ’عَجَبٌ‘ مصدر ہے اس وجہ سے ’عجیب‘ کے مقابل میں اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ لفظ انھوں نے اس کلام کی دل پذیری، اثر انگیزی اور حکمت آفرینی کے پہلو سے استعمال کیا۔ عربی میں یہ لفظ صرف کسی شے کے انوکھے پن کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ اس کی دل پذیری اور اثر انگیزی کے پہلو کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہاں یہ اسی پہلو سے آیا ہے۔ سورۂ احقاف میں یہی بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: قَالُوْا یَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا کِتَابًا أُنۡزِلَ مِنۡ بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَہْدِیْ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ (الاحقاف ۴۶: ۳۰) ’’اے ہماری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اپنے پہلے کی پیشین گوئیوں کی مصداق بنا کر نازل کی گئی ہے جو حق اور ایک بالکل سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔‘‘ اس سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جنات صرف اپنی ہی زبان نہیں بلکہ جس علاقہ سے وہ تعلق رکھتے ہیں اس علاقہ کے انسانوں کی زبان بھی سمجھتے ہیں اور ان کے اندر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس زبان کے حسن و قبح کے اچھی طرح پرکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔