Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 2

  1. یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ﴿2﴾

    1. يَّهْدِيْٓوہ رہنمائی کرتا ہے
    2. اِلَى الرُّشْدِہدایت کی طرف
    3. فَاٰمَنَّاتو ہم ایمان لائے
    4. بِهٖ ۭاس پر
    5. وَلَنْ نُّشْرِكَاور ہم ہرگز شریک نہ ٹھہرائیں گے
    6. بِرَبِّنَآاپنے رب کے ساتھ
    7. اَحَدًاکسی کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور اب ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قرآن کی دعوت رُشد: یہ قرآن کی اسی دل پذیری کی وضاحت ہے جس کی طرف لفظ ’عجیب‘ اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی یہ کتاب اس حق و ہدایت کی طرف رہنمائی کر رہی ہے جس کو ہر سلیم الفطرت کا دل قبول کرتا ہے۔ سورۂ احقاف کی مذکورہ بالا آیت میں ’یَہْدِیْ إِلَی الْحَقِّ وَإِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں اسی مضمون کے لیے جامع لفظ ’رُشْدٌ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ ان تمام بنیادی عقائد اور نیکیوں پر حاوی ہے جو انسانی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔ انسان اپنے اختیار کے سوء اعمال سے اپنی فطرت بگاڑ نہ لے تو یہ اس کی رہنمائی صحیح سمت میں کرتی ہے اور اگر غفلت کے سبب سے ان پر کبھی حجاب بھی آ جاتا ہے تو وہ معمولی تذکیر و تنبیہ سے دور ہو جاتا ہے بشرطیکہ انسان نفس کی خواہشوں کی پیروی میں اس کی ناقدری نہ کرے۔ اس ’رُشْدٌ‘ میں سب سے اونچا مقام توحید کا ہے۔ تمام بنیادی عقائد و اعمال کا منبع بھی وہی ہے اور اسی پر ان کی صحت کا مدار بھی ہے۔ رشد کا حق: ’فَاٰمَنَّا بِہٖ‘۔ یہ انھوں نے اس ’رُشْدٌ‘ کا حق بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت سے ہمیں آگاہ فرمایا تو ہم نے اس کا یہ فطری حق سمجھا کہ ہم اس پر ایمان لائیں، چنانچہ ہم نے اس کو صدق دل سے قبول کر لیا۔ رشد کا سرچشمہ: ’وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‘۔ تمام رشد کا سرنامہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، توحید ہی ہے چنانچہ انھوں نے اس رشد پر ایمان کا تقاضا یہ بیان کیا کہ اب ہمارے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ ہم کسی کو اپنے رب کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ تمام بنیادی عقائد اور نیکیاں نہ صرف انسانوں اور جنوں کے درمیان مشترک ہیں بلکہ قرآن میں یہ وضاحت ہے کہ یہ تمام کائنات میں مشترک ہیں۔ ہمارے اور جنوں کے درمیان فرق ہے تو معاشرتی احکام میں ہے۔ توحید، معاد، جزا و سزا اور فضائل و رذائل میں فرق کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ چنانچہ انہی چیزوں کا یہاں ذکر آیا ہے اور قرآن نے مکی زندگی کے ابتدائی دور میں انسانی فطرت کے انہی ابتدائی مطالبات کی لوگوں کو دعوت بھی دی۔