تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 19
وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ع﴿19﴾
- وَّاَنَّهٗ لَمَّااور یہ کہ جب
- قَامَ عَبْدُ اللّٰهِکھڑا ہوا اللہ کا بندہ
- يَدْعُوْهُکہ وہ اس کی عبادت کرے
- كَادُوْاقریب تھا
- يَكُوْنُوْنَوہ ہوجائیں
- عَلَيْهِاس پر
- لِبَدًا(حلقہ در حلقہ)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ صرف اللہ ہی کو پکارتا کھڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس پر پل پڑیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سب سے زیادہ مانوس چیز اجنبی بن کر رہ گئی ہے:
یعنی ہونا تو یہ تھا کہ بیت اللہ میں غیر اللہ کا نام بھی سنا نہ جا سکتا لیکن اس کے بالکل برعکس صورت حال یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ صرف اپنے رب ہی کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو مخالفین اس کو ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں۔
’لِبَدٌ‘ جمع ہے ’لِبْدَۃٌ‘ کی، جس کے معنی کسی تہ بہ تہ اور گتھم گتھا شے کے ہیں۔ یہ تصویر ہے اس بات کی کہ جو گھر خالص اللہ واحد کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا اب اس میں بھی توحید ایک ایسی نامانوس چیز بن کے رہ گئی ہے کہ جب اللہ کا رسول اپنے رب کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور توحید خالص کی تعلیم پر مشتمل سورتوں کی تلاوت کرتا ہے تو لوگ اس کو ایک اعجوبہ یا دیوانہ سمجھ کر ہر سمت سے گھیر لیتے ہیں۔ بعینہٖ یہی صورت اس وقت بھی پیش آتی جب آپ دعوت کے لیے نکلتے اور لوگوں کو توحید کی سورتیں سناتے۔ اس وقت بھی شریر افراد آپ کو گھیر لیتے اور آپ کی توہین کرنے اور ایذا پہنچانے کی کوشش کرتے۔
’عَبْدُ اللّٰہِ‘ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس لفظ میں آپ کے لیے پیار بھی ہے اور اس حقیقت کا اظہار بھی کہ اللہ کے بندے کے لیے سب سے زیادہ معقول اور فطری کام کوئی ہو سکتا ہے تو یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اللہ ہی کو پکارے لیکن دنیا کا ضمیر اس طرح بگڑ چکا ہے کہ یہی سب سے زیادہ صحیح اور اعلیٰ کام لوگوں کے لیے ایک نہایت انوکھا اور ناگوار کام بن کے رہ گیا ہے۔