Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 3

  1. وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ﴿3﴾

    1. وَّاَنَّهٗاور یہ کہ
    2. تَعٰلٰىبرتر
    3. جَدُّشان
    4. رَبِّنَاہمارا رب
    5. مَا اتَّخَذَاس نے نہیں بنایا
    6. صَاحِبَةًبیوی
    7. وَّلَااور نہ
    8. وَلَدًااولاد
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے، اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے نہ کوئی اولاد
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ انھوں نے اپنے قول ’وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‘ کی مزید وضاحت کر دی کہ اب ہم پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ہمارے رب کی شان بیوی بچوں کی نسبتوں سے بالکل پاک اور نہایت ارفع ہے۔ نادان ہیں وہ لوگ جو اس طرح کی چیزیں اس سے منسوب کرتے ہیں۔ اس نے نہ اپنے لیے کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی اولاد۔ ’جد‘ کے معنی عظمت، شان اور رتبہ کے ہیں۔ یعنی اس کی ذات اتنی بلند ہے کہ کوئی چیز اس کی شریک و سہیم اور ہمہ رتبہ نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنی ذات میں بالکل یکتا، بے نیاز اور ہر چیز سے مستغنی ہے۔ کسی کا یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہم سر ہو سکے۔ یہ قول اگرچہ جنات ہی کا ہے اس وجہ سے اس کو ’فَقَالُوْا اِنَّا سَمِعْنَا‘ کے تحت ہی ہونا چاہیے تھا لیکن نبی ﷺ کو یہ باتیں براہ راست نہیں بلکہ وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوئیں اس وجہ سے اس کو ’قُلْ اُوْحِیَ إِلَیَّ أَنَّہٗ‘ کے تحت کر دیا گیا اور آگے جنات کے سارے اقوال اسی کے تحت آئیں گے۔