Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 6

  1. وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ﴿6﴾

    1. وَّاَنَّهٗاور یہ کہ
    2. كَانَ رِجَالٌتھے کچھ آدمی
    3. مِّنَ الْاِنْسِانسانوں میں سے
    4. يَعُوْذُوْنَپناہ لیتے (تھے)
    5. بِرِجَالٍلوگوں سے
    6. مِّنَ الْجِنِّجنات سے
    7. فَزَادُوْهُمْتو انہوں نے (جنات) کو بڑھا دیا
    8. رَهَقًاتکبر میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو جنوں میں سے بعض کی دہائی دیتے رہے ہیں تو انہوں نے ان کی شامت ہی میں اضافہ کیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انسانوں کی بعض حماقتوں کی طرف اشارہ: اسی سلسلہ میں انھوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنا یہ انکشاف بھی بیان کیا کہ اس قرآن سے ہمیں یہ علم بھی ہوا کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ افراد کی دہائی دیتے رہے ہیں لیکن اس سے ان کو کچھ نفع پہنچنے کے بجائے ان کی شامت اور بدبختی ہی میں اضافہ ہوا۔ ’رَہَقٌ‘ کے اصل معنی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کے ہیں۔ یہیں سے اس کا استعمال زیادتی، گناہ، حق تلفی اور تعدی کے معنی میں وسیع ہو گیا۔ چنانچہ آگے آیت ۱۳ میں یہ لفظ تعدی کے معنی میں آیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے آیت کے معنی یہ لیے ہیں کہ کچھ بے وقوف انسانوں نے جنوں کی دہائی دے کر ان کے دماغ کو عرش پر پہنچا دیا ہے، لیکن یہ تاویل صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اول تو اس کلام کا کچھ فائدہ سمجھ میں نہیں آتا ثانیاً لفظ ’رَہَقٌ‘ کے اصل مفہوم سے اس میں تجاوز بھی ہے۔ میرے نزدیک ’زَادُوْا‘ کا فاعل ’رِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ‘ اور ’ہم‘ کا مرجع ’رِجَالٌ مِّنَ الْإِنۡسِ‘ ہے یعنی بے وقوف انسانوں نے تو جنوں کی پناہ اس لیے ڈھونڈی کہ وہ ان کی آفتوں سے اپنے کو بچائیں لیکن جنوں نے جب دیکھا کہ کچھ انسان ان کے جال میں پھنسے ہیں تو انھوں نے اپنے شر سے محفوظ رکھنے کے بجائے ان کو اور تگنی کا ناچ نچایا۔ عرب کے مشرکین میں جنات سے متعلق یہ وہم تھا کہ وہ غیب کی خبریں معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں چنانچہ اسی چیز نے ان کے ہاں کہانت کا ایک پورا نظام کھڑا کر دیا جس کی بنیاد تمام تر، جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، جھوٹ اور فریب پر تھی۔ کاہن اپنے جال میں پھنسے ہوئے بے وقوفوں میں سے جس کو ڈرا دیتے کہ فلاں خطرناک جن تم پر بہت برہم ہے، اگر تم نے اس کے لیے فلاں چیز کی قربانی یا اتنی نذر نہ گزرانی تو وہ آفت میں مبتلا کر دے گا تو وہ لازماً ان کے حکم کی تعمیل کرتا۔ یہاں تک کہ انہی کاہنوں کے حکم سے بعض بے وقوف لوگ جنوں کو راضی کرنے کے لیے اپنی اولاد تک کو، جیسا کہ سورۂ انعام میں ذکر ہے، قربان کر دیتے۔ اسی نوع کا ایک دوسرا وہم یہ پایا جاتا تھا کہ ہر وادی اور ہر پہاڑی جنوں کے کسی خاص گروہ کا مسکن ہوتی ہے۔ اگر اس وادی میں رات گزارنے کی نوبت آئے تو ضروری ہے کہ اس کے سردار جن کی پناہ حاصل کر لی جائے ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ کسی آفت میں مبتلا کر دے۔ چنانچہ دور جاہلیت میں اہل عرب جب کسی وادی میں شب گزارتے تو اس وادی کے سردار جن کی دہائی دے کر، اپنے گمان کے مطابق، اس کی پناہ حاصل کر لیتے۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک خواہ مخواہ کی مصیبت تھی جس میں جنوں کے وہم نے ان کو مبتلا کر رکھا تھا۔ اسی طرح کی باتوں کی طرف ان مومن جنوں نے اشارہ کیا ہے اور ان کا مقصود یہ دکھانا ہے کہ توحید کے شعور سے محرومی کے باعث بے وقوف اور شریر جنوں میں کس طرح گٹھ جوڑ رہا ہے اور اس سے کیا کیا روحانی و مادی مفاسد ظہور میں آ رہے تھے جن کے سدباب کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ کتاب نازل فرمائی ہے۔ لفظ ’رِجَالٌ‘ کی تنکیر تحقیر اور تفخیم دونوں پر دلیل ہو سکتی ہے۔ آپ یہ معنی بھی لے سکتے ہیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ بے وقوف ہمارے اندر کے کچھ بے وقوفوں کی دہائی دیتے تھے اور یہ معنی بھی لے سکتے ہیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ شریر ہمارے اندر کے کچھ شریروں کی دہائی دیتے تھے بلکہ یہ معنی بھی اگر لیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ احمق ہمارے اندر کے کچھ شریروں کی دہائی دیتے ہیں تو یہ بھی عربیت کے خلاف نہیں ہو گا۔