تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 7
وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ﴿7﴾
- وَّاَنَّهُمْاور یہ کہ وہ
- ظَنُّوْاانہوں نے گمان کیا
- كَمَاجیسے
- ظَنَنْتُمْتم نے گمان کیا تھا
- اَنْکہ
- لَّنْ يَّبْعَثَہرگز نہ (رسول بناکر) بھیجے گا
- اللّٰهُاللہ
- اَحَدًاکسی کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہ انہوں نے بھی تمہاری ہی طرح یہ گمان کیا کہ اللہ کسی کو مرنے کے بعد زندہ کرنے والا نہیں ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
توحید کے بعد قیامت کا حوالہ:
توحید کے بعد یہ قیامت کے باب میں انھوں نے دونوں گروہوں کی غلط فہمی کی طرف اشارہ کیا کہ جس طرح تم اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو زندہ نہیں کرے گا اسی طرح انسان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن لوگوں کی اس غلط فہمی کو بھی دور کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔
بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ جس طرح تمہارے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنا کر بھیجنے والا نہیں ہے اسی طرح انسانوں کے اندر یہ بھی غلط فہمی موجود تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے نزول نے اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا۔
اگرچہ آیت کے الفاظ کے اندر یہ معنی لینے کی گنجائش موجود ہے لیکن یہ بات کھٹکتی ہے کہ قرآن کے اولین مخاطبوں میں، خواہ بنی اسماعیل ہوں یا بنی اسرائیل، پچھلی پیشین گوئیوں کی بنا پر ایک رسول کی بعثت کا انتظار تھا۔ اگرچہ اہل کتاب نے ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کا انکار نہ کر سکے۔ بنی اسماعیل کے اندر، ان کی امیت کے سبب سے، اس رسول کا تصور کچھ واضح نہیں تھا لیکن قطعیت کے ساتھ انکار انھوں نے بھی نہیں کیا۔ چنانچہ قرآن کے بعض مقامات میں ان کو ملامت فرمائی گئی ہے کہ رسول کی بعثت سے پہلے پہلے تو تم بڑھ چڑھ کر دعویٰ کرتے تھے کہ تمہارے اندر اللہ نے کوئی رسول بھیجا تو تم اس کی دعوت کو سب سے پہلے قبول کرنے والے اور اس کی ہدایت پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے بنو گے لیکن جب اللہ نے اس نعمت سے تمہیں نوازا تو تم اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔