تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 8
وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ﴿8﴾
- وَّاَنَّااور یہ کہ ہم
- لَمَسْنَاہم نے چھوا (ٹٹولا)
- السَّمَآءَآسمان
- فَوَجَدْنٰهَاتو ہم نے اسے پایا
- مُلِئَتْبھرا ہوا
- حَرَسًاپہریدار
- شَدِيْدًاسخت
- وَّشُهُبًااور شعلے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک نئے تجربے کا حوالہ:
یہ انھوں نے اپنے ایک خاص تجربہ کا حوالہ دیا جو اس کتاب کے نزول کے دور میں بالکل پہلی بار اس کائنات کے نظام میں ان کو ہوا۔ انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ اس دوران میں ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو یہ دیکھا کہ آسمان زیریں پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں عالم بالا کے اسرار کی کچھ سن گن لینے کے لیے جو بیٹھا کرتے تھے تو اب اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی اب اس کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔
قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان فرمائی گئی ہے کہ شیاطین جن عالم غیب کی باتیں اچکنے کے لیے جب گھات لگاتے ہیں تو ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ جنوں کے اس ذاتی تجربہ سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے اور مزید برآں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے تو گھات لگانے کی کچھ گنجائش تھی لیکن جس دور کا وہ یہ تجربہ بیان کر رہے ہیں اس دور میں آسمان کا ہر گوشہ پہرہ داروں اور شہابوں سے اس طرح بھر دیا گیا تھا کہ جنوں کے لیے دراندازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔
جنوں نے کائنات میں اس اہم تغیر کا ذکر تو کیا لیکن قوم کے سامنے اس کا کوئی سبب وہ نہیں بتا سکے۔ اس کی وجہ آگے کی آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس اہم تبدیلی کی حکمت ان پر اچھی طرح واضح نہیں تھی۔ تاہم نزول قرآن کے واقعہ کے ساتھ اس واقعہ کو ملا کر انھوں نے لوگوں کو یہ تاثر دے دیا کہ آسمان کے نظام میں یہ تبدیلی بھی قرآن کے نزول ہی سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔
ہمارے نزدیک ان کا یہ قیاس صحیح تھا۔ قران کے متعدد مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسمان میں جو پہرا اس کو شیاطین کی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے وہ نزول وحی کے زمانے میں نہایت سخت کر دیا گیا تھا تاکہ ان کو وحی میں کسی دراندازی کی راہ نہ ملے۔ یوں تو یہ پہرا ہمیشہ ہی رہا ہے۔ نزول قرآن سے پہلے بھی شیاطین پر شہابوں کی مار پڑتی رہی ہے لیکن جس طرح حکومتیں اس شاہراہ کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دیتی ہیں جس پر سے شاہی خزانہ لے جایا جانے والا ہو یا بادشاہ کی سواری گزرنے والی ہو اسی طرح وحی کے نزول اور جبریل امینؑ کی آمد و شد کے دور میں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دی گئی تھی تاکہ اچکوں کی ہر راہ مسدود ہو جائے۔
جنوں کی اس اطلاع کا ذکر قرآن نے یہاں مشرکین عرب کے سامنے اس لیے کیا ہے کہ وہ قرآن پر یہ الزام جو لگاتے ہیں کہ یہ کاہنوں کے طرز کا کلام ہے جو نعوذ باللہ کوئی جن پیغمبرؐ پر القاء کرتا ہے۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کی تردید کے لیے خود جنوں کا یہ بیان کافی ہے کہ اس دور میں آسمان سے کوئی خبر لانا تو درکنار اس کے اندر ان کے جو ٹھکانے تھے اب ان تک پہنچنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔