تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 10
وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا﴿10﴾
- وَاصْبِرْاور آپ صبر کریں
- عَلٰياس پر
- مَاجو
- يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
- وَاهْجُرْهُمْاور انہیں چھوڑدیں
- هَجْرًاکنارہ کش ہوکر
- جَمِيْلًااچھی طرح
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کر اور ان کو خوبصورتی سے نظر انداز کر
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مخالفین کی باتوں پر صبر اور اس صبر کا طریقہ:
اپنے جھٹلانے والوں کی بے ہودہ گوئیوں پر صبر کرو اور اپنے موقف پر ڈٹے رہو نہ ان کی باتوں کا غم کرو اور نہ زیادہ ان کے درپے ہو، بلکہ ان کو خوبصورتی کے ساتھ چھوڑو۔ وہ اپنی اس روش کا خمیازہ خود بھگتیں گے۔
چھوڑنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک چھوڑنا تو وہ ہے جو فضیحتا اور لعن طعن کے بعد، عناد و انتقام کے جذبہ کے ساتھ ہو۔ اس طرح کا چھوڑنا عام دنیا داروں کا شیوہ ہے۔ اخیار و صالحین یہ طریقہ نہیں اختیار کرتے۔ وہ خلق کی اصلاح کی کوشش اپنی کسی ذاتی منفعت کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی ہدایت اور اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ لوگ ان کی ناقدری اور دل آزاری کرتے ہیں تو انھیں غصہ یا نفرت کے بجائے ان کے حال پر افسوس اور ان کی محرومی و بدانجامی پر صدمہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ ان کے رویہ سے مجبور ہو کر ان کو چھوڑتے تو ہیں لیکن یہ چھوڑنا اسی طرح کا ہوتا ہے جس طرح ایک شریف باپ اپنے نالائق بیٹے کے رویہ پر خاموشی اور علیحدگی اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح کے چھوڑنے کو یہاں ’ہجر جمیل‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس طرح کی علیحدگی بعض اوقات مفید نتائج پیدا کرتی ہے۔ جن کے اندر خیر کی کوئی رمق ہوتی ہے وہ اس شریفانہ طرز عمل سے متاثر اور اپنے رویہ کا جائزہ لینے کی طرف مائل ہوتے ہیں ورنہ کم سے کم انھیں یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ شخص ان کے باطل پر راضی ہونے والا نہیں ہے خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے۔ جب تک پیغمبر اپنی قوم کے اندر رہتا ہے قوم کی زیادتیوں کا مقابلہ وہ اسی ’ہجر جمیل‘ سے کرتا ہے۔ البتہ جب قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو وہ اس کو اعلان براء ت کے ساتھ چھوڑتا ہے اور اس کا یہ چھوڑنا قوم کی موت کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔