Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 11

  1. وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا﴿11﴾

    1. وَذَرْنِيْاور مجھے چھوڑدو
    2. وَالْمُكَذِّبِيْنَاور جھٹلانے والوں
    3. اُولِي النَّعْمَةِخوشحال لوگوں
    4. وَمَهِّلْهُمْاور ان کو مہلت دیدیں
    5. قَلِيْلًاتھوڑی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان اہل تنعم جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑا اور ان کو کچھ دیر اور مہلت دے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تکذیب کرنے والوں کو سخت دھمکی: یہ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے جھٹلانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے نہایت سخت دھمکی دی ہے کہ تم ان کا معاملہ مجھ پر چھوڑو اور تھوڑی سی مہلت ان کو اور دو۔ مطلب یہ ہے کہ پھر دیکھو کہ ان کا حشر کیا ہوتا ہے! ’وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ‘ کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ تم الگ ہو کر بیٹھو اور مجھے تنہا ان سرکشوں سے نمٹ لینے دو، تمہارے ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ ان جھٹلانے والوں کی تباہی میں کچھ دیر ہو رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی ان کے اندر تم موجود ہو۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک پیغمبر قوم کے اندر موجود رہتا ہے اس وقت تک قوم پر عذاب نہیں آتا۔ تم چھوڑو تو چشم زدن میں ان سرکشوں کا تیا پانچا ہوا جاتا ہے۔ یہ ان ظالموں کی بدبختی ہے کہ وہ تمہارے درپے آزار ہیں۔ ان کے لیے عذاب کے مقابل میں امان کی دیوار تمہی ہو۔ اگر اس امان سے انھوں نے اپنے کو محروم کر لیا تو عذاب سے ان کو کون بچائے گا۔ ’اُوْلِی النَّعْمَۃِ‘ کے معنی ارباب تنعم و رفاہیت کے ہیں۔ لفظ ’نَعْمَۃٌ‘ رفاہیت و تنعم کے معنی میں آتا ہے۔ ’مُکَذِّبِیْنَ‘ کی اس صفت کے حوالہ سے مقصود ان کے سبب تکذیب کا سراغ دینا اور ان کی ناشکری پر ان کو ملامت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تنعم و رفاہیت سے بہرہ مند فرمایا تھا تو اس کا حق یہ تھا کہ اپنے رب کے شکر گزار رہتے لیکن اللہ کی بخشی ہوئی خوشحالی ان کے لیے استکبار کا سبب ہوئی اور وہ اپنے رب کے حریف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔