Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 2

  1. قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ﴿2﴾

    1. قُمِ الَّيْلَرات میں قیام کریں
    2. اِلَّا قَلِيْلًامگر تھوڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
رات میں قیام کر مگر تھوڑا حصہ
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیام لیل کی برکتیں: لفظ ’مُزّمّل‘ میں حضورؐ کی جو فکر مندی اور پریشانی مضمر ہے یہ اس کا علاج بتایا جا رہا ہے اور یہ علاج صرف یہیں نہیں بتایا گیا ہے بلکہ جب جب دعوت کی راہ میں آپ کو پریشانیاں پیش آئی ہیں ان کا یہی علاج آپ کو قرآن نے بتایا ہے اور ہم ہر جگہ اپنے علم کے حد تک اس کی حکمت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ یہاں چونکہ اس علاج کی تاثیر اور اس کی قدر و قیمت آگے خود واضح فرما دی گئی ہے اس وجہ سے ہم اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے صرف آیات کی تفسیر پر اکتفا کریں گے جس سے ان شاء اللہ خود یہ بات سامنے آ جائے گی کہ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیام لیل میں کیا برکتیں ودیعت فرمائی ہیں اور وہ کن پہلوؤں سے اس کی صرف شدہ قوتوں کو بحال اور اس کے عزم و ایمان کو مضاعف کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ قیام لیل کا وقت: ’قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا ہ نِّصْفَہٗٓ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا ہ اَوْ زِدْ عَلَیْہِ‘۔ رات سے یہاں ظاہر ہے کہ رات کا نصف آخر ہے، جب آدمی کچھ سو چکنے کے بعد اٹھتا ہے۔ اس کی وضاحت آگے ’نَاشِئَۃَ الَّیْلِ‘ کے لفظ سے ہو گئی ہے۔ تہجد کے لیے یہی وقت نبی ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے اور یہی اصل مقصد کے اعتبار سے سب سے زیادہ بابرکت بھی ہے۔ یہ وقت رات کے نصف کے بقدر بھی ہو سکتا ہے، اس سے کچھ کم بھی ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ شب کے پچھلے پہر میں اٹھنا ایک کٹھن کام ہے، اس میں دیر سویر کے ہو جانے کا امکان ہے، اس وجہ سے وقت کے معاملے میں وسعت رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ مشقت کا موجب نہ ہو۔ اگرچہ الفاظ قرآن سے پوری نصف شب کے قیام کا اولیٰ ہونا نکلتا ہے لیکن کمی بیشی کی گنجائش الفاظ میں موجود ہے۔